Express News:
2026-06-03@05:41:10 GMT

ایران سے نہ بات ہو رہی ہے نہ کوئی پیشکش کی ہے؛ ٹرمپ

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات یا پیشکش کی خبروں کو مسترد کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں لکھا کہ میں ایران کو کسی قسم کی پیشکش نہیں کر رہا نہ ہی ان سے بات چیت کر رہا ہوں۔ ہم نے ان کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سینیٹر کرس کونز نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ ایران سے ممکنہ مذاکرات پر گامزن ہیں جس میں پابندیاں نرم کرنے اور اربوں ڈالر کی مراعات کے بدلے ایران کو جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹنے کی پیشکش شامل ہوسکتی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان بیانات کو "سنجیدہ مذاکرات کی کوشش نہیں بلکہ میڈیا پر اثر انداز ہونے کی چال" قرار دیا۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ امریکا کی طرف سے بار بار بیانیے بدلنا کوئی نیا رجحان نہیں۔

یاد رہے کہ جون 13 کو اسرائیل اور امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات، بیلسٹک میزائل پروگرام اور سائنسی مراکز پر شدید حملے کیے۔ اس کے ردعمل میں ایران نے اسرائیل پر 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور 1,100 ڈرونز فائر کیے تھے۔

ان حملوں کے نتیجے میں 28 افراد جاں بحق 3 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تھے جن میں ٹاپ رینک کے آرمی آفیسرز اور ایٹمی سائنسدان بھی شامل ہیں۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر