ایران آئی اے ای اے کیساتھ تعاون جاری رکھے، یورپی ٹرائیکا
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
تین یورپی ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کیساتھ تعاون کو روکنے پر مبنی کسی بھی اقدام سے باز رہے! اسلام ٹائمز۔ تین یورپی ممالک برطانیہ، فرانس و جرمنی نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کی کارکردگی کے حوالے سے ایران میں ہونے والی شدید تنقید پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس امر کی مذمت کی ہے۔ اس حوالے سے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی (AFP) کا لکھنا ہے کہ تہران نے سربراہ آئی اے ای اے پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اپنے فرائض سے غداری کی ہے کیونکہ اس کی جانب سے، ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی و امریکی حملوں کی تاحال مذمت تک نہیں کی گئی نیز، ایرانی پارلیمنٹ نے اسی ہفتے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ ملکی تعاون کو معطل کرنے پر مبنی بل بھی منظور کیا ہے۔
اس بارے فرانسیسی، جرمن و برطانوی وزرائے خارجہ جین نول بیروٹ، جوہان وڈفول اور ڈیوڈ لیمی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ فرانس، جرمنی و برطانیہ؛ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کے خلاف "دھمکیوں" کی مذمت اور اس ادارے کے لئے اپنی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ اس بیان میں یورپی ٹرائیکا نے ایران سے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہم ایرانی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کو روکنے پر مبنی کسی بھی اقدام سے گریز کریں!
تینوں یورپی وزرائے خارجہ نے موجودہ صورتحال اور حالیہ امریکی و اسرائیلی جارحیتوں سے ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کئے بغیر مزید کہا کہ ہم ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اپنی "قانونی" ذمہ داریوں کے مطابق مکمل تعاون دوبارہ سے شروع کرے اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے اہلکاروں کے تحفظ و سکیورٹی کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے!
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عالمی جوہری توانائی ایجنسی آئی اے ای اے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔