جوہری آلودہ پانی کے سمندر میں اخراج کے خلاف چین کا موقف بدستور برقرار ہے، چینی وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
جوہری آلودہ پانی کے سمندر میں اخراج کے خلاف چین کا موقف بدستور برقرار ہے، چینی وزارت خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 30 June, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چین کی کسٹمز کی جنرل ایڈمنسٹریشن نے جاپان کے کچھ علاقوں سے آبی مصنوعات کی درآمد مشروط طور پر دوبارہ شروع کرنے کا اعلان جاری کیا۔ پیر کے روز چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے یومیہ پریس کانفرنس کے دوران اس حوالے سے کہا کہ جوہری آلودہ پانی کے سمندر میں اخراج کے خلاف چین کا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔ خاص طور پر چین کی مضبوط پوزیشن اور فعال کوششوں کی وجہ سے جاپان نے فوکوشیما کے جوہری آلودہ پانی کے سمندر میں اخراج کی بین الاقوامی نگرانی اور چین کی آزادانہ نمونے لینے کی نگرانی کو قبول کیا ہے،
اور مذکورہ نگرانی کی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے تاکہ جاپان پر زور دیا جائے کہ وہ طویل مدتی عملی اقدامات کے ذریعے وعدوں کی پاسداری کو یقینی بنائے اور سمندر میں پانی کے اخراج کے خطرات کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرے۔
چینی حکام عوام کی خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ریگولیٹری اقدامات کو مضبوط بناتے رہیں گے، اور کسی بھی خطرے کا پتہ چلنے کی صورت میں قانون کے مطابق فوری طور پر ضروری درآمدی پابندیاں لگائی جائیں گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراتحاد اور جدوجہد ہی چینی عوام کے لئےعظیم تاریخی کامیابیاں تخلیق کرنے کا واحد راستہ ہے، چینی صدر ٹرمپ نے نیویارک کے پہلے مسلمان میئر زہران ممدانی کی فنڈنگ روکنے کی دھمکی دے دی ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ کے ملک میں داخلے پر پابندی لگادی ایران چند ماہ میں یورینیئم افزودہ کرنے کا آغاز کرسکتا ہے، سربراہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی اسرائیلی فوج کی غزہ میں بڑے فوجی آپریشن کی تیاری، شمالی علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری روس کا یوکرین پر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ، یوکرینی ایف 16 بھی تباہ بھارت میں دہلی یونیورسٹی کی انتظامیہ کا تعلیمی نصاب سے پاکستان، اسلام اور چین جیسے مضامین کو نکالنے کا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جوہری ا لودہ پانی کے سمندر میں اخراج اخراج کے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔