کراچی، لانڈھی سے 70 سالہ بزرگ شہری کا اغوا، خاندان سے دو کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے لانڈھی نمبر 6 میں واقع ایریا سی 5 کے رہائشی 70 سالہ معین الدین خان کے اغوا کی واردات نے پولیس اور عوامی حلقوں میں سنسنی پھیلادی ہے۔ اغوا کا مقدمہ ان کے بیٹے غیاث الدین خان کی مدعیت میں قائدآباد تھانے میں درج کرایا۔
تفصیلات کے مطابق مدعی غیاث الدین نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا کہ ان کا والد معین الدین خان مختلف فیکٹریوں اور سرکاری اداروں سے اسکریپ کا مال خرید کر شیرشاہ مارکیٹ میں فروخت کرتا تھا۔
ان کا کاروبار اندرون سندھ اور پنجاب تک پھیلا ہوا تھا، اور وہ اکثر ان علاقوں کا دورہ کرتے رہتے تھے۔
غیاث الدین نے بتایا کہ 21 جون 2025 کو ان کے والد نے اپنے چھوٹے بھائی ذیشان کو کہا کہ وہ انہیں لانڈھی ریلوے اسٹیشن چھوڑ دے کیونکہ وہ صادق آباد جا رہے ہیں تاکہ اسکریپ کا مال خرید سکے۔
ذیشان نے اپنے والد کو اسٹیشن چھوڑا اور واپس آ گیا۔ تاہم اگلے دن 22 جون 2025 کو جب غیاث الدین نے اپنے والد کے دونوں موبائل نمبروں پر رابطہ کرنے کی کوشش کی تو دونوں نمبر بند تھے۔
غیاث الدین نے مزید بتایا کہ جب انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی سے سوال کیا تو اس نے بتایا کہ ان کے والد کو 21 جون کی شام 6 بجکر 10 منٹ پر بسم اللہ مسجد کے نزدیک ریلوے لائن کے پاس چھوڑا تھا، اور اس کے بعد سے ان کا رابطہ نہیں ہو سکا تھا۔
23 جون 2025 کو، غیاث الدین اور اس کے چھوٹے بھائی کو ان کے والد کے واٹس ایپ نمبر سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں معین الدین نے لکھا کہ کچھ لوگوں نے مجھے اغوا کیا ہے، مجھے نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے، اور یہ لوگ مجھے بہت تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے میسج میں مزید لکھا کہ میری رہائی کے لیے دو کروڑ روپے، دو راڈو گھڑیاں اور دو آئی فون کی ڈیمانڈ کی گئی ہے، اگر دو دن میں یہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو مجھے مار دیا جائے گا۔
غیاث الدین نے بتایا کہ اس پیغام کے ساتھ ان کے والد کی تشدد زدہ ویڈیو بھی دونوں بھائیوں کے واٹس ایپ پر بھیجی گئی تھی۔
غیاث الدین نے اس صورتحال کی اطلاع قائدآباد تھانے کو دی اور اغوا کے اس سنگین واقعے کا مقدمہ درج کرانے کی درخواست کی۔ پولیس نے مدعی کا بیان قلمبند کیا اور 365-A/34 کے تحت مقدمہ الزام نمبر 373/2025 درج کر لیا۔ تفتیش کا عمل ایس آئی یو (سی آئی اے) کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: غیاث الدین نے ان کے والد بتایا کہ نے اپنے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔