WE News:
2026-07-24@06:40:40 GMT

ایران، اسرائیل جنگ کا نامکمل وقفہ

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

12 دن کی ہولناک جنگ، جو بظاہر تھم چکی ہے، مگر اس کے بطن میں چھپے سوالات اور خدشات آئندہ کسی بڑے طوفان کی تمہید بن سکتے ہیں۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں جو جنگ بندی ایران اور اسرائیل کے درمیان عمل میں آئی، اس کا آغاز اور انجام دونوں ہی متنازع، غیر متوازن اور ناپائیدار دکھائی دیتے ہیں۔ ٹرمپ نے اسے (The 12 Day War) کہا، مگر کیا صرف 12 دن کی جھڑپیں اس خطے کے دیرینہ زخموں پر مرہم رکھ سکتی ہیں؟

اس تنازع کا ایک اہم پہلو 22 جون کی درمیانی شب بنی جب اسرائیل کی درخواست پر امریکا نے ایران کی نیوکلیئر تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر حملے کیے۔ ٹرمپ کے الفاظ میں یہ حملے ان تنصیبات کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔

جواب میں ایران نے قطر میں واقع امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے ’العدید‘ پر میزائل داغے، اور یوں ایسا لگا کہ مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع تر جنگ کے دہانے پر آ گیا ہے۔ لیکن چند گھنٹوں بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ’مکمل اور جامع جنگ بندی‘ کا اعلان کر دیا۔

جنگ بندی کے محض 4 گھنٹے بعد اسرائیل نے ایران پر ایک اور حملہ کیا، جس کے جواب میں اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ وہ میزائل اس کی جانب سے نہیں تھے۔ ٹرمپ، جو ثالثی کے کردار میں تھے، اس واقعے پر برہم دکھائی دیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ممالک اتنی شدت سے لڑ رہے ہیں کہ اب انہیں خود نہیں پتا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

اس کے بعد پھر ایک رسمی ’سیز فائر‘ بحال ہوا۔ ٹرمپ نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ اسرائیلی طیارے واپس جا رہے ہیں اور ایران کو ’دوستانہ ہاتھ ہلا‘ رہے ہیں۔

پہلی بار اسرائیل نے ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر براہ راست حملہ کیا۔ نطنز اور اصفہان کو نشانہ بنا کر اسرائیل نے یہ پیغام دیا کہ وہ چاہے جتنا دور ہو، کاروائی کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اسرائیل نے امریکا کو عملی جنگ میں شامل کرکے یہ ظاہر کیا کہ وہ واشنگٹن کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

لیکن کیا یہ قانونی تھا؟ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ ’متوقع دفاع‘ تھا، جبکہ عالمی سطح پر اسے خلافِ ضابطہ اقدام سمجھا جا رہا ہے۔

اگرچہ اسرائیلی اور امریکی ذرائع ان حملوں کو مؤثر قرار دے رہے ہیں، تاہم بین الاقوامی جوہری ادارے (IAEA) سمیت کسی غیر جانبدار ادارے نے ابھی اس نقصان کی تصدیق نہیں کی۔ ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ تنصیبات کو بحال کرنے کی تیاری پہلے سے موجود تھی، اور کوئی تعطل نہیں آئے گا۔

تاہم ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ 400 کلوگرام افزودہ یورینیم، جس کی موجودگی IAEA نے تسلیم کی ہے، وہ کہاں ہے اور کیا وہ محفوظ ہے؟

جنگ بندی ہوئی ہے، لیکن امن نہیں۔ نہ اسرائیل پیچھے ہٹا ہے، نہ ایران جھکا ہے۔ اگرچہ یورپی طاقتیں ایران کے ساتھ سفارتی مصالحت کی کوشش کر رہی ہیں، مگر اسرائیل ہر ایسے معاہدے کی راہ میں رکاوٹ رہا ہے۔ دوسری طرف، ایران بھی JCPOA جیسے سابق معاہدے سے امریکی دستبرداری کو بھلا نہیں پایا۔

ایران کی پارلیمان کی سیکیورٹی کمیٹی نے IAEA سے تعاون معطل کرنے کا بل منظور کیا ہے، جو واضح پیغام ہے کہ ایران اب بین الاقوامی نگرانی کی حدود سے نکلنے کو تیار ہے۔

اگرچہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ رک چکی ہے، لیکن ایک غیر اعلانیہ سرد جنگ اب بھی جاری ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو بارود سے زیادہ اعتماد، سفارتکاری، اور بین الاقوامی توازن کو نگلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ جنگ ختم ہوئی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ یہ سیز فائر کتنی دیر کا وقفہ ہے، امن کی دستک یا خاموشی سے پہلے کا شور؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مشکور علی

’امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد‘ اسرائیل امریکا ایران ٹرمپ مشکورعلی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکہ مردہ باد اسرائیل مردہ باد اسرائیل امریکا ایران مشکورعلی اسرائیل نے رہے ہیں

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم