اسرائیل کیجانب سے حزب اللہ کی رضوان فورس کے انٹیلیجنس کمانڈر عباس الوہبی کو شہید کرنیکا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
صیہونی فوج کا کہنا ہے کہ عباس الوہبی حزب اللہ کی دفاعی صلاحیتوں کو بحال کرنے اور ہتھیاروں کی منتقلی جیسے اقدامات میں سرگرم تھے۔ اسرائیلی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس الوہبی رضوان فورس کی انٹیلیجنس کارروائیوں کا اہم حصہ تھے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل نے ڈرون حملے میں حزب اللہ کی رضوان فورس کے انٹیلی جنس کمانڈر عباس الوہبی کو شہید کرنے کا دعویٰ کر دیا۔ اسرائیلی فوج (IDF) کے مطابق جنوبی لبنان کے علاقے محروانہ میں کیے گئے ایک ڈرون حملے میں حزب اللہ کے رضوان فورس بٹالین کے انٹیلی جنس کمانڈر عباس الحسن الوہبی کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ عباس الوہبی حزب اللہ کی دفاعی صلاحیتوں کو بحال کرنے اور ہتھیاروں کی منتقلی جیسے اقدامات میں سرگرم تھے۔ اسرائیلی فوج کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس الوہبی رضوان فورس کی انٹیلی جنس کارروائیوں کا اہم حصہ تھے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ حملہ ہفتے کی صبح کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ڈرون حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحدی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج حزب اللہ کی رضوان فورس
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔