حکومت فوری طور پر مخدوش عمارتوں کا سروے کرے‘ آباد
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر) ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے کراچی لیاری کے علاقے بغدادی میں 8 منزلہ مخدوش عمارت کے منہدم ہونے کے نتیجے میں 9 سے زاید افراد کی ہلاکتوں اور درجنوں کے زخمی ہونے پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سانحے نے شہر میں موجود درجنوں دیگر مخدوش عمارتوں کے خطرے کی طرف ایک بار پھر توجہ مبذول کرا دی ہے جن کی بروقت مرمت یا منتقلی نہ ہونے کی صورت میں آئندہ بھی ایسے حادثات رونما ہو سکتے ہیں۔چیئرمین آباد نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کو فوری اور مکمل طبی امداد دی جائے اور ان کے علاج معالجے میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے،انھوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ درجنوں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں،سندھ حکومت سے اپیل کرتا ہوں کے انھیں صحیح سلامت نکالنے کے لیے ریسکییو ٹیموں کی بھرپور مدد کی جائے۔انھوں نے کہا کہ آباد کے ممبران مشکل کی اس گھڑی میں سانحے کے متاثرین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ انھوں نے حکومتی اداروں پر زور دیا کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی مالی اور نفسیاتی بحالی کے لیے بھی فوری اقدامات کریں تاکہ وہ اس سانحے سے نمٹنے کے قابل ہو سکیں۔ حسن بخشی نے بتایا کہ کراچی میں درجنوں ایسی خستہ حال عمارتیں موجود ہیں جو انسانی جانوں کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہیں چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کراچی شہر میں تعمیر ہونے والی عمارتوں کو 3 زمروں میں تقسیم کرتے ہوئے بتایا کہ پہلی وہ عمارتیں جو آباد کے ممبر بلڈرز کی جانب سے تعمیر کی جاتی ہیں اور قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری سے ہوتی ہیں۔دوسری وہ عمارتیں ہیں جو 50 سال یا اس سے پہلے تعمیر ہوئیں اور اب خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہیں جبکہ تیسری وہ عمارتیں جو غیرقانونی طریقے سے، بغیر نقشے کی منظوری، ناقص میٹریل اور غیر تربیت یافتہ افراد کے ذریعے تعمیر کی جاتی ہیں۔انھوں نے بتایا غیر قانونی تعمیرات میں ناقص میٹریل استعمال ہوتا ہے، اور ان کی تعمیر میں کوئی مستند انجینئر شامل نہیں ہوتا، جو انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ آباد متعدد بار ان غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آواز بلند کرتا رہا ہے لیکن مؤثر اقدامات کی کمی نے صورت حال کو بدتر بنا دیا ہے۔ چیئرمین آباد نے سندھ حکومت کو پیشکش کی ہے کہ آباد ان خستہ حال عمارتوں کی جگہ عالمی معیار کی کثیرالمنزلہ عمارتیں تعمیر کرنے کو تیار ہے، اور وہاں کے موجودہ رہائشیوں کو بغیر کسی قیمت کے جدید، محفوظ اور پائیدار رہائشی سہولیات فراہم کرے گا۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ سندھ اسمبلی اس مقصد کے لیے مناسب قانون سازی کرے تاکہ یہ منصوبہ قانونی تحفظ کے ساتھ ممکن بنایا جا سکے۔انھوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر مخدوش عمارتوں کا سروے، ان کے انخلا اور آباد کے مجوزہ منصوبے پر سنجیدگی سے غور کرے تاکہ مستقبل میں انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔