او آئی سی سی آئی سروے میں 73فیصد افراد نے پاکستان کو سرمایہ کاری کیلئے موزوں قراردیدیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے سروے 2025 میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 73 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور حکومتی پالیسیوں پر اطمینان ظاہر کیا ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر حکمت عملیوں نے ملک میں ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی بدولت پاکستان پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے تین چوتھائی سے زائد بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کو ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد ملک سمجھتے ہیں۔ 2025 میں 73 فیصد سرمایہ کاروں نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے موزوں قرار دیا، جو 2023 میں 61 فیصد تھی۔ یہ اضافہ ملکی معیشت میں بہتری، عالمی کریڈٹ ریٹنگ کے اپ گریڈ ہونے اور روپے کے استحکام کے باعث ممکن ہوا۔
او آئی سی سی آئی رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح میں 37 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد تک آنے نے بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کے رجحان کو تقویت دی۔
او آئی سی سی آئی کے صدر یوسف حسین نے کہا کہ ایس آئی ایف سی نے سرمایہ کاری کے فروغ اور بین الحکومتی ہم آہنگی کے لیے ایک منظم نظام متعارف کرایا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے آئی ٹی، زراعت، توانائی، فارما اور برآمدی صنعت کو سب سے زیادہ پرکشش شعبے قرار دیا ہے۔
سروے کے نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر بڑھتا ہوا اعتماد ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی کے نئے دور کی نشاندہی کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: غیر ملکی سرمایہ کاروں او آئی سی سی آئی سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری کے نے پاکستان
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔