شوہر نے بھائی کے ساتھ مل کر بیوی کو قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کندھکوٹ(نمائندہ جسارت) کندھکوٹ نواحی گاؤں محمد پناہ میں شوہر نے اپنے بھائی کے ہمراہ سیاہ کاری کے الزام میں بیوی کو قتل کر کے فرار ہو گئے۔ اطلاع پر پولیس پہنچ کر لاش کو تحویل میں لیکر سول ہسپتال پہنچایا جہاں پر لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے لاش پڑی رہی ورثاء سخت پریشان انتظامیہ نے کوئی بہی نوٹیس نہیں لیا۔تفصیلات کے مطابق؛ کندھکوٹ کے قریب پولیس تھانہ بی سیکشن کی حدود نواحی گاؤں محمد پناہ کھوسو میں ملزم شوہر ہزار خان کھوسو اپنے بھائی مور خان کھوسو کے ہمراہ مبینا سیاہ کاری کی تھمت دیکر اپنی بیوی فرزانہ خاتون کو ٹی ٹی پسٹل کے فائر مار کر قتل کر کے فرار ہو گئے۔ واقعہ کی اطلاع پر پولیس پہنچ کر مقتولہ خاتون کی لاش کو اپنی تحویل میں لیکر سول ہسپتال کندھ کوٹ پہنچایا ہسپتال میں مقرر لیڈی ڈاکٹرز ڈیوٹی پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے کئی گھنٹے لاش ہسپتال میں پڑی رہی۔ مقتولہ خاتون کے ہمراہ آنے والے ورثاء سخت پریشان ہو گئے کئی گھنٹے لاش ہسپتال میں پڑی ہونے کی وجہ سے محکمہ صحت اور ضلع انتظامیہ نے کوئی بہی نوٹیس نہیں لیا باخبر ذرائع کے مطابق لیڈی ڈاکٹر کے بجائے مرد ڈاکٹرز نے لاش کا معائنہ کر کے کاغذی کارروائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردی پولیس کے مطابق واقعہ سیاہ کاری کے باعث پیش آیا ہے جبکہ ملزم گہر خالی کر کے فرار ہو گئے ہیں ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس کارروائیاں کر رہی ہے مقتولہ خاتون کے ورثاء آنے کے بعد واقعہ کا مقدمہ درج کیا جائیگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہو گئے
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔