اڈیالہ جیل میں تین قیدی دل کی شدید تکلیف کے باعث راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی منتقل
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
ارشاد قریشی: راولپنڈی اڈیالہ جیل میں تین قیدیوں کو دل کی شدید تکلیف کے باعث راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی منتقل کیا گیا ہے جبکہ ہسپتال منتقلی کے دوران ایک قیدی انتقال کرگیا۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سےتین قیدی دل کی شدید تکلیف کے باعث راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی منتقل کردیئے گئے جبکہ ایک قیدی ممتازاقبال ہسپتال منتقلی کے دوران انتقال کرگیا ۔
راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی نےانتقال کرنے والے قیدی کو لینے سے انکار کردیا,قیدی ممتاز اقبال تھانہ کلر سیداں میں منشیات کے مقدمہ میں گرفتار تھا۔
ہنڈائی ٹکسن ہائبرڈ بغیر سود کے آسان اقساط میں حاصل کریں
ہسپتال منتقل کئے جانے والے قیدیوں میں عصمت اللہ خان بھی شامل جو تھانہ پیرودھائی میں شادی شدہ خاتون کے قتل کیس میں گرفتار ہے،عصمت اللہ خان نے جرگہ کرکے شادی شدہ خاتون سدرہ عرب کے قتل کا فیصلہ دیا تھا۔
جیل ذرائع کے مطابق ہسپتال منتقل کئے جانے والوں میں قیدی ملک حماد بھی شامل جوقتل کےایک مقدمہ میں گرفتار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ہسپتال منتقل
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔