Express News:
2026-07-24@01:01:40 GMT

پاک ، بنگلہ دیش بڑھتی قربتیں: احتیاط لازم ہے!

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

ہم اپنے سابقہ مشرقی پاکستانیوں کو ہر لحاظ سے گلے لگانے کے خواہشمند رہے ہیں ۔ 55سال گزر گئے، مگر اِس تمنا کی آبیاری کے لیے ہمیں موقع ہی نہیں مل رہا تھا ۔ پہلے ’’ بنگلہ بندھو‘‘ شیخ مجیب الرحمن نے (بھارتی خوشنودی میں) پاکستانیوں پر محبتوں کا یہ راستہ مسدود کیے رکھا اور پھر اُن کی مقتدر اور پاکستان معاند صاحبزادی ، شیخ حسینہ واجد، نے ۔ اب قدرت نے یہ راستہ کھول دیا ہے تو ہمیں بنگلہ دیش سے تعلقات استوار کرنے میں بے حد احتیاط کی ضرورت ہے ۔ شیخ حسینہ واجد کا بنگلہ دیش میں پاکستان مخالف 15سالہ اقتدار ختم ہو چکا ہے ۔

وہ بھارت میں سیاسی پناہ گیر بن چکی ہیں ۔ اور یوں پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے ڈھاکا میں محبتوں کے نئے چشمے بہہ نکلے ہیں ۔ بھارت، بھارتی خفیہ اداروں اور انڈین اسٹیبلشمنٹ کو اِس سے بڑی تکلیف پہنچ رہی ہے ۔ اُن کی بنگلہ دیش میں متنوع سرمایہ کاری اور محنتیں اکارت چلی گئی ہیں ۔ بنگلہ دیشی عوام اور خصوصاً بنگلہ دیشی طالبعلموں نے اپنا خون دے کر بنگلہ دیش میں بھارتی سرمایہ کاری کا سفینہ ڈبویا ہے ۔ یوں نئے منظر نامے میں پاکستان کو بنگلہ دیش میں اپنے پاؤں جمانے کے مواقع دستیاب ہُوئے ہیں ۔

بھارت کے پیٹ میں مروڑ تو اُٹھ ہی رہے ہیں،دُنیا بھی اِس بدلتے منظر نامے کو دیکھ رہی ہے ۔ اِن میں امریکا کے ممتاز صحافی ، دانشور اور مصنف مائیکل کوگلمین ( Michael Kogalman) بھی شامل ہیں ۔ مائیکل کوگلمین صاحب ماہرِ اُمور خارجہ بھی ہیں ۔ جنوبی ایشیا کے معاملات پر انھیں تخصص حاصل ہے ۔ وہ واشنگٹن میں بروئے کار عالمی شہرت یافتہ تھنک ٹینک Woodrow Wilson International Centerکے South Asia Institute کے ڈائریکٹر بھی ہیں ۔ معروف امریکی جریدے Foreign Policyکے باقاعدہ کالم نویس بھی ہیں ۔

اُن کے تخصص اور تحقیق کا مرکز پاکستان ، بھارت اور افغانستان ہیں ۔ پاک ، بنگلہ دیش بڑھتی قربتوں کے پسِ منظر میں گزشتہ روز مائیکل کوگلمین نے یوں لکھا:’’ پچھلے ایک سال کے دوران پاک، بنگلہ دیش بڑھتے تعلقات جنوبی ایشیا میں Biggest Geopolitical Storiesمیں نمایاں ترین ہیں۔ پاک ، بنگلہ دیش تعلقات چونکہ پچھلے15برسوں کے دوران خاصے منجمد رہے ہیں، اس لیے اب اچانک دونوں کے درمیان تعلقات میں بدلاؤ آنے پر کئی بھنویں تنی ہُوئی ہیں ۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ فروری2026ء میں جب بنگلہ دیش میں عام انتخابات ہوں گے اور نتائج نکلیں گے ، تب پاک ، بنگلہ دیش تعلقات کیا رُخ اور نہج اختیار کریں گے ؟۔‘‘

 مائیکل کوگلمین کے تحفظات بے بنیاد نہیںہیں۔ بین السطور وہ یہ بھی کہنے کی کوشش کررہے ہیں کہ پاکستانی حکام کو بنگلہ دیشی حکام ( بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کی حکومت) کی گرمجوشیوںکو ٹھنڈے دل سے گلے لگانا چاہیے ۔ ابھی بنگلہ دیش سے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد ، اُن کے خاندان اور اُن کی پارٹی (عوامی لیگ) کے اثرات بالکل معدوم نہیں ہُوئے ہیں ۔ اور نہ ہی بنگلہ دیش سے اُن عناصر کا خاتمہ عمل میں آیا ہے جو بھارتی اثرونفوذ میں ہیں ۔

یہ عناصر بھارتی خفیہ اداروں کی ایما پر پاکستان کے خلاف زہرافشانی سے ہنوز باز نہیں آتے ۔ بنگلہ دیش میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں ہے جو پاک، بنگلہ دیش قربتوں کو زک پہنچانے کے لیے اِس مطالبے پر ڈٹے ہُوئے ہیں کہ پاکستان کو بنگلہ دیش سے ( 1971ء کے مبینہ سانحات کے پس منظر میں ) معافی مانگنی چاہیے اور یہ کہ پاکستان کی طرف ابھی بنگلہ دیش کے کئی ارب روپے نکلتے ہیں (ویسے تو اسحاق ڈار نے گزشتہ  روز اپنے دَورئہ ڈھاکا میں صاف کہہ دیا ہے کہ1971ء کے معاملات حل ہو چکے ہیں، اب آگے بڑھنا ہے) یہ عناصر کسی بھی وقت بھڑک کر الاؤ بن سکتے ہیں، اس لیے پاک ، بنگلہ دیش تعلقات کے حوالے سے ہمارے پالیسی سازوں کے لیے احتیاط بھی بے حد لازم ہے اور حاسدین اور مفسدین سے بچاؤ بھی ضروری ہے ۔

 11ستمبر2025ء کو ڈھاکا یونیورسٹی میں طلبا یونین کے انتخابات ہُوئے ۔اِس میں جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا طلبا وِنگ (اسلامی چھاترا شِبر) بھاری اکثریت سے جیت گیا تو ہمارے ہاں کئی اخبارات نے یہ خبر شایع کی کہ ڈھاکا یونیورسٹی میں یہ کامیابی دراصل پاکستان کی کامیابی ہے ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسی خبروں کی اشاعت اور خوشی کے اظہار سے گریز بے حد ضروری ہے ۔

دیکھا جائے تو بنگلہ دیش میں فروری کے عام انتخابات ابھی دُور تو ہیں ، مگر اتنے بھی دُور نہیں ہیں ۔ پاکستان کو اِس حوالے سے بھی بڑی احتیاط سے قدم اُٹھانا ہوں گے ۔ ساتھ ہی کسی بھی بنگلہ دیشی گروہ ، سیاسی و مذہبی جماعت اور معروف بنگلہ دیشی تاجر برادری کو نظر انداز کرنا چاہیے نہ ہی خود سے دُور کرنا چاہیے ۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اگست2025ء کے آخری ہفتے جب ہمارے وزیر خارجہ ، جناب اسحاق ڈار ، نے ڈھاکا کا 2 روزہ تاریخ ساز دَورہ کیا تو انھوں نے بنگلہ دیشی چیف ایڈوائزر ( پروفیسر محمد یونس) اور بنگلہ دیشی مشیر برائے اُمورِ خارجہ( محمد توحید حسین) سے مفصل اور ثمر آور ملاقاتیں تو کی ہیں ، انھوں نے بنگلہ دیش کی معروف مذہبی اور نئی و پرانی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں، سرکردہ رہنماؤں اور اُن کے وفود سے محبت و احترام بھری ملاقاتیں بھی کیں ۔ مثال کے طور پر ڈار صاحب نے بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی ( جس نے حسینہ واجد کی پندرہ سالہ جابرانہ حکومت میں بے حد مظالم برادشت کیے اور پھانسیاں تک سہہ لیں) کے وفد سے تفصیلی ملاقات کی ۔ بعد ازاں ڈار صاحب نے امیرِ جماعتِ اسلامی، ڈاکٹر شفیق الرحمن صاحب ،سے اُن کی رہائش گاہ پر جا کر ملاقات کی ۔ شفیق صاحب آج کل دل کے آپریشن کے بعد گھر پر آرام کررہے ہیں ۔

ڈار صاحب نے’’بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یاBNP‘‘ کے وفد سے بھی ملاقات کی۔ اِس وفد کی سربراہی پارٹی کے سیکریٹری جنرل ، مرزا فخر الاسلام عالمگیر، کررہے تھے ۔ ہمارے وزیر خارجہ نے سابق وزیر اعظم بنگلہ دیش ، محترمہ بیگم خالدہ ضیاء ، سے اُن کے دولت کدے پر جا کر ملاقات کی ۔ بیگم صاحبہ بھی آج کل علیل ہیں ۔ انھوں نے بنگلہ دیش کی ایک اور نئی سیاسی جماعت( جاتیہ شہری پارٹی یاNCP) کے وفد اور سربراہ سے بھی ملاقات کی ۔ یہ پارٹی دراصل انقلابی بنگلہ دیشی طلبا کی پارٹی ہے ۔ یہی ہے وہ اولوالعزم جماعت اور اِس کے سربراہ جنھوں نے تشدد و جبرپسند شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ اُلٹا اور موصوفہ کو بھارت فرار ہونے پر مجبور کر دیا ۔ کہا جارہا ہے کہNCPپر بنگلہ دیشی عوام خاصا اعتماد کررہے ہیں ۔ شاید فروری کے عام انتخابات میں وہ کئی سیٹیں نکال لے جائے ۔

ہمارے وزیر خارجہ ، اسحاق ڈار، نے حالیہ دَورے میں بنگلہ دیشی حکام کے ساتھ6اہم ترین معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط کیے ۔اِن کے تحت اب:(1) پاکستان کے سفارتکار اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے سینئر افسران بغیر ویزہ بنگلہ دیش جا سکیں گے (2)انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد اور بنگلہ دیش کے انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ اسٹرٹیجک اسٹڈیز کے درمیان ایم او یو پر دستخط ہُوئے ہیں (3) پاکستان کی سرکاری نیوز ایجنسیAPP اور بنگلہ دیش کی سرکاری نیوز ایجنسی BSSکے درمیان اہم معاہدہ ہُوا ہے ۔ یوں پاکستان اور بنگلہ دیش کے صحافی حضرات ایک دوسرے کے ملک کا بآسانی دَورہ کر سکیں گے (4) پاکستان پہلے بھی بنگلہ دیشی طلبا وطالبات کو سرکاری وظائف پر پاکستانی تعلیمی اداروں میں تعلیم کے حصول کی سہولیات سے نوازتا رہا ہے ۔ اب مگر ڈار صاحب کے حالیہ دَورے کے بعد پاکستان مزید کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہُوئے 500بنگلہ دیشی طلباو طالبات کو پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سرکاری وظائف پر پڑھے کی اجازت دے گا۔

یہ خبریں اپنی جگہ خوش کن اور اہم ہیں ، مگر یاد رکھا جائے بھارت اب بھی بنگلہ دیش کو قابو کرنے کے لیے کوشاں ہے۔اِس کی ایک تازہ مثال 14اکتوبر2025ء کو سامنے آئی ہے جب بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کے تین افسران ( جن کی قیادت میجر جنرل کندن کمار سنگھ کررہے تھے) نے ڈھاکا کا خفیہ دَورہ کیا۔ اِس خبر کو بنگلہ دیش اور بھارت نے چھپانے کی کوشش تو کی لیکن تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں!

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شیخ حسینہ واجد اور بنگلہ دیش بنگلہ دیش میں بھی بنگلہ دیش بنگلہ دیش کے نے بنگلہ دیش بنگلہ دیش کی کو بنگلہ دیش بنگلہ دیش سے بنگلہ دیشی کہ پاکستان ملاقات کی ہ وئے ہیں ڈار صاحب کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو