عرفان صدیقی کے بیٹے عمران خاور صدیقی ایڈوائزر وزیراعلیٰ پنجاب مقرر WhatsAppFacebookTwitter 0 10 December, 2025 سب نیوز

لاہور: (آئی پی ایس) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے عرفان صدیقی مرحوم کے بڑے صاحبزادے عمران خاور صدیقی کوایڈوائزر مقرر کر دیا۔

اس حوالے سے ایس اینڈ جی اے ڈی پنجاب نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف عرفان صدیقی کی خالی سینیٹ کی نشست ان کے بیٹے کو دینا چاہتے تھے۔

عمران صدیقی پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سربراہ ہیں اور اس حیثیت سے سرکاری خزانے سے تنخواہ لے رہے تھے جس کے باعث وہ سینیٹ کا الیکشن لڑنے کے اہل نہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخاکروب کی آسامیوں کے اشتہار میں ’’صرف مسیحی‘‘ لکھنے پر پابندی خاکروب کی آسامیوں کے اشتہار میں ’’صرف مسیحی‘‘ لکھنے پر پابندی صدر زیلنسکی یوکرین میں 90 دن کے اندر مشروط انتخابات کرانے پر رضامند اڈیالہ کے قریب دھرنا ختم، پولیس کا مظاہرین کو منتشر کرنےکیلئے واٹر کینن کا استعمال، پی ٹی آئی کارکنوں کا پتھراؤ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بجلی کی قیمتوں میں ایک ماہ کیلئے 88پیسے فی یونٹ کمی، نیپرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا نواز شریف نے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈرکی تقرری کیلئے مشاورت کا آغاز کر دیا،رانا ثنااللہ اور سینیٹر پرویز رشیدکے نام شارٹ لسٹ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: عرفان صدیقی

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟