Express News:
2026-07-24@04:46:29 GMT

صدر ٹرمپ سے مودی سرکار تک

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بات کی ہے اور انھیں پاکستان کے ساتھ جنگ نہ کرنے پر زور دیا ہے۔

انھوں نے یہ دعویٰ واشنگٹن کے اوول آفس میں دیوالی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں بھارتی نژاد افراد کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

امریکی صدر نے انھیں بطور خاص مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کے وزیر اعظم مودی سے ٹیلی فون پر بات کی ہے جس میں تجارتی معاملات زیر بحث آئے، اسی باعث میں موثر انداز سے ان سے یہ بات کہہ سکا کہ اب پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہے جو بہت اچھی بات ہے۔ ادھر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حسب سابق اپنی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کے دعوے کو جھوٹ قرار دے دیا ہے اور واضح طور پر موقف اختیار کیا ہے کہ دیوالی کے موقع پر ٹرمپ سے مودی کی ہونے والی گفتگو کے دوران پاکستان پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔

  قارئین کو یاد ہوگا کہ مئی میں ہونے والی چار روزہ پاک بھارت جنگ کے موقع پر بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نریندر مودی کو فون کرکے کہا تھا کہ آپ پاکستان سے جنگ کی نہیں تجارت کی بات کرو، کیونکہ جنگ نے خطرناک رخ اختیار کر لیا تو سوائے تباہی کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ امریکی صدر کے دباؤ پر ہی بھارت کی مودی سرکار جنگ بندی پر راضی ہوئی۔

امریکی صدر درجنوں مواقعوں پر یہ بات کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے پاک بھارت جنگ رکوانے میں بنیادی رول ادا کیا اور نریندر مودی کو فون کرکے کہا کہ پاکستان سے تجارت کریں اور فوری جنگ بند کریں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر مودی سرکار نے امریکی صدر کے پاک بھارت جنگ بندی میں کردار ادا کرنے کے دعوے کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان اعلیٰ سطح رابطوں کے بعد دونوں جنگ بندی پر راضی ہوئے اس میں ٹرمپ کا کوئی کردار نہیں ہے۔

جب کہ پاکستان کا اول دن سے پاک بھارت جنگ بندی کے حوالے سے تواتر کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار نہ صرف یہ تسلیم کرتا چلا آ رہا ہے اور اس حوالے سے پاکستان نے سرکاری سطح پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبل پرائز کے لیے بھی نامزد کرنے کی سفارش کی تھی۔ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف متعدد مواقعوں پر برملا پاک بھارت جنگ میں صدر ٹرمپ کے مثبت کردار کی تعریف کرتے رہے ہیں۔

 ابھی چند روز پیشتر مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ امن معاہدے کی تقریب کے دوران بھی وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی رہنماؤں کے سامنے ایک مرتبہ پھر امن کے نوبل پرائز کے لیے حق دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پاک بھارت جنگ رکوا کر لاکھوں لوگوں کی زندگی بچائی ہے۔ صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم کے اس جملے کو دہرایا بھی تھا کہ وزیر اعظم پاکستان نے کہا ہے کہ میں نے لاکھوں لوگوں کی جانیں بچائی ہیں۔ ایک دنیا تسلیم کرتی ہے کہ صدر ٹرمپ نے نہ صرف پاک بھارت جنگ رکوائی بلکہ اسرائیل، ایران جنگ بندی، قطر اسرائیل تنازع اور اسرائیل فلسطین تنازع حل کروانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

افسوس کہ بھارت کی مودی سرکار امریکی صدر کے پاکستان کے حوالے سے امن کردار ادا کرنے کی حقیقت کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کر رہی ہے جس سے نہ صرف بھارت امریکا تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوگی بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرد مہری میں بھی مزید اضافہ نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جہاں تک تعلق ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اب جنگ نہیں ہو گی تو بڑی معذرت کے ساتھ عرض کرنا پڑے گا کہ نریندر مودی کے ناپاک عزائم اور پاکستان کے خلاف ریاستی بغض و عناد رکھنے کے باعث ان سے کوئی امید نہیں کہ دوبارہ جارحیت کے مظاہرے سے باز رہ سکے۔

فی الحال تو مودی سرکار نے افغانستان میں اپنی پراکسی کے ذریعے پاکستان میں مداخلت جاری رکھی ہوئی ہے اور وہاں موجود دہشت گردوں کی پشت پناہی کرکے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ میں ملوث ہے۔ اس کی شئے پر افغانستان نے پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا تھا۔ دوحہ قطر میں ہونے والے پاک افغان جنگ معاہدے کے بعد امید ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کرنے کے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے علاقوں میں موجود دہشت گردوں اور ان کے ٹریننگ کیمپوں کا نہ صرف خاتمہ کرے گی بلکہ انھیں بھارت سے ملنے والی امداد کو بھی موثر طریقے سے روکے گی تاکہ پاکستان اور افغانستان اپنے ماضی کے روایتی برادرانہ اسلامی رشتوں کو مزید مستحکم کریں۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت پوری شدومد کے بار بار بھارت کو خبردار کر رہی ہے کہ اگر اس نے دوبارہ جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو ایسا منہ توڑ جواب دیا جائے گا کہ قیامت تک بھارت یاد رکھے گا۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف کے واضح اور دو ٹوک پیغامات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ بھارت ان کا مطالعہ کرتا رہے یہی اس کے حق میں بہتر ہوگا ورنہ تباہی اس کا مقدر ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے خلاف پاک بھارت جنگ پاکستان اور مودی سرکار کہ پاکستان کے درمیان کرتے ہوئے انھوں نے ہے اور

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل