لیاری کے علاقے بغدادی میں 5 منزلہ رہائشی عمارت منہدم ہونے کے بعد جاری ریسکیو آپریشن 2 دن بعد ختم کردیا گیا ہے۔

یہ طویل سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن 60 گھنٹے سے جاری رہا جس دوران ملبے سے 27 لاشیں نکالی گئیں اور 10 زخمیوں کو ریسکیو کیا گیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کے ملبے تلے دبی 15 سالہ محمد زید نامی لڑکے کی آخری لاش 48 ویں گھنٹے میں ریکور کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے: لیاری سانحہ افسوسناک، ریسکیو آپریشن آج مکمل ہوگا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد زید کے بڑے بھائی نے بتایا کہ عمارت منہدم ہوتے وقت وہ خود بھی عمارت میں موجود تھا اور اور اپنے بھائی کو باہر نکالنے کی کوشش بھی کی تاہم کامیاب نہ ہوسکا۔ اس واقعے میں محمد زین کے والد اور دیگر 2 بھائی بھی جان سے گئے۔

اسسٹنٹ کمشنر لیاری شہریار حبیب نے آپریشن مکمل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گرنے والی عمارت کے ارد گرد مزید 3 عمارتیں مخدوش حالت میں ہیں جنہیں خالی کیا گیا ہے انہیں سیل بھی کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی کے علاقے لیاری میں 5 منزلہ عمارت گرنے کا واقعہ، اموات کی تعداد 11 ہوگئی

انہوں نے بتایا کہ ساؤتھ میں 50 سے زائد مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے کل سے لیاری کی تمام مخدوش عمارتوں کے خلاف آپریشن کیا جائے گا۔

اس سے قبل وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ اولڈ سٹی ایریا میں 480 سے زائد عمارتیں خطرناک قرار دی جا چکی ہیں، ان میں سے بیشتر ضلع جنوبی میں واقع ہیں۔ ایک نئی بلڈنگ جو گزشتہ روز گری، بغیر اجازت تعمیر کی گئی تھی اس کے ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے گی۔

مزید پڑھیں: کراچی: لیاری میں 107 مخدوش عمارتیں، 22 انتہائی حساس قرار، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ

غریب لوگ سستی عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں، لیکن حکومت کی کوشش ہے کہ خطرناک عمارتوں سے انہیں بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔ عوام سے اپیل ہے کہ بلڈنگ خریدتے وقت حکومتی منظوری ضرور چیک کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بغدادی عمارت لیاری مخدوش عمارت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: لیاری بتایا کہ

پڑھیں:

’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 

پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز،  915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ 

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا