سرکاری ملازم جو ذمے داری پوری نہیں کر رہا وہ حرام کھا رہا ہے: علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور—فائل فوٹو
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازم جو اپنی ذمے داری پوری نہیں کر رہا وہ حرام کھا رہا ہے، تنخواہ کو حلال کرنے کے لیے کام کریں۔
پشاور میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا ہے کہ پشاور زبردست لوکیشن پر ہے لیکن اس پر خصوصی توجہ نہیں دی گئی تھی، ہم آئے تو 12 سال کے منصوبے مکمل نہیں تھے، بجٹ میں ہم نے فیصلہ کیا کہ پرانے منصوبوں کو مکمل کریں گے، اپنے وسائل مزید بڑھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 50 ارب روپے کا اے ڈی پی پلس بھی دے رہے ہیں، پورے صوبے میں ایسا علاقہ نہیں چھوڑیں گے جہاں اسپتال نہ ہو، آبادی کے لحاظ سے عوام کو سہولتیں دے رہے ہیں، اب بھی لوگ کہتے ہیں کہ میرے علاقے کو تحصیل بنا دیں، ضلع یا تحصیل بنانے سے ترقی نہیں ہوتی۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صحت میں ہم نے پرائیویٹ اسپتالوں کو انگیج کیا ہوا ہے، ہر ریجن میں کارڈیک اسپتال ہو گا، ڈی آئی خان میں ایک ایسا حلقہ ہے جہاں ایک کالج نہیں، 30 کالجز کے لیے کرایے پر عمارتیں حاصل کی ہیں، مجھے اسپتال نہیں، علاج چاہیے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ امیر مقام کا ہوٹل مکمل نہیں گراؤں گا، صرف تجاوزات کا حصہ گرے گا، کسی سے زیادتی نہیں ہو گی، مجھے خدا کو جواب دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلی 4 حکومتوں میں جتنا کام ہوا ہے وہ ہم اس حکومت میں کریں گے، عہد کرتا ہوں کہ ایسا کام کروں گا جو مجھے لگے کہ کر سکتا ہوں، یونیورسٹی روڈ کے انڈر پاسز پر بھی کام شروع ہو گا، پشاور میں رش کم کرنے کے لیے منصوبے لا رہے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ انڈسٹریل اسٹیٹ کے لیے ایسا روڈ بنا رہے ہیں، جہاں سے بڑی گاڑیاں ڈائریکٹ نکلیں گی، پشاور کا مکمل ایک پیکیج ہے، پھولوں کے شہر میں آ کر پہلے آرٹیفیشل پھول لگائیں، اگر کوئی اپنی ذمے داری پوری نہیں کر رہا وہ حرام کھا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی پوری نہ کرنا سب سے بڑی کرپشن ہے، آپ نے دیانتداری سے کام کرنا ہے، دیانتداری میں ڈیوٹی بھی آتی ہے، ملاوٹ سے اگر کوئی شخص مر رہا ہے تو ملاوٹ کرنے والا قاتل ہے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ٹی ایم اے میں ساری بھرتیاں سفارش پر ہوئی ہیں، ٹی ایم اے میں سارے نواب ہیں اور نوابوں سے کام نہیں لے سکتے، ٹی ایم اے سے کام لینا سب سے مشکل کام ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام کی تعلیم ہے کہ دیانت داری کریں، ہم سارا دن جھوٹ بول رہے ہیں، میں نے ساری عمر والد کی جائیداد بیچی ہے، میرے پاس سب کچھ تھا لیکن والدہ کا علاج نہیں کر سکا، پیسہ خوشی اور خواہشات نہیں خرید سکتا۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہم سب کی ذمےداری ہے کہ سوچھیں کہ اپنے بچےکو کون سی تعلیم دینی ہے، عظیم قوم بننے کے لیے سب نے فیصلہ کرنا ہے کہ آئین اور اسلامی تعلیمات پر زندگی گزارنی ہے، خیبر پختون خوا کے لوگ عزت اور غیرت پر یقین رکھتے ہیں، ہر سال مختلف ایوارڈ ملتے ہیں، ایمانداری کا بھی ایوارڈ ملنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور کا کا کہنا ہے کہ نے کہا کہ رہے ہیں نہیں کر کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔