ایف بی آر کا مصنوعی ذہانت پر مبنی کسٹمز کلیئرنس اور رسک مینجمنٹ سسٹم متعارف WhatsAppFacebookTwitter 0 7 July, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایت پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مصنوعی ذہانت پر مبنی کسٹمز کلیئرنس اور رسک مینجمنٹ سسٹم متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد کسٹمز نظام میں شفافیت، خودکاری اور کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق درآمد و برآمد کی اشیاء کی لاگت اور نوعیت کا اندازہ اب جدید ٹیکنالوجی یعنی مصنوعی ذہانت اور باٹس (BOTS) کی مدد سے لگایا جائے گا، یہ سسٹم مشین لرننگ کے ذریعے خود کو مسلسل بہتر بناتا رہے گا، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ کرپشن کے امکانات بھی کم ہوں گے۔

بریفنگ دی گئی کہ نئے سسٹم کی ابتدائی ٹیسٹنگ کے دوران 92 فیصد سے زائد بہتری دیکھنے میں آئی، اس دوران ٹیکس وصولی کے لیے 83 فیصد زائد گڈز ڈیکلریشن کی نشاندہی ہوئی اور ڈیڑھ گنا زائد کلیئرنس گرین چینل کے ذریعے مکمل کی گئی۔

نیا رسک مینجمنٹ سسٹم کسٹمز حکام پر دباؤ کم کرے گا، انسانی مداخلت محدود ہوگی اور کاروباری افراد کو تیز رفتار سہولت میسر آئے گی، اشیاء کی درجہ بندی اور لاگت کا مؤثر تخمینہ فوری لگنے سے پورا نظام شفاف اور نتیجہ خیز ہو جائے گا۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس نظام میں شفافیت اور بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے، ٹیکنالوجی پر مبنی نظام سے کاروباری ماحول بہتر ہوگا اور ٹیکس دہندگان کو زیادہ سہولت میسر آئے گی۔

وزیراعظم نے سسٹم کو مربوط اور پائیدار بنانے کی ہدایت دی اور رسک مینجمنٹ نظام کی تشکیل میں حصہ لینے والے افسران و اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہا۔

اجلاس کو ویڈیو اینالیٹکس پر مبنی مینو فیکچرنگ سیکٹر میں ٹیکس وصولی کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا، اس نظام سے ٹیکس کی وصولی خودکار، شفاف اور انسانی مداخلت سے پاک ہوگی، جس سے حکومتی آمدن میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا، یہ نظام کم لاگت کا حامل ہے اور اس کی ابتدائی ٹیسٹنگ میں 98 فیصد افادیت نوٹ کی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، وزیراعظم نے نظام کی افادیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے تیز رفتاری سے ملک بھر میں نافذ کرنے کی ہدایت کی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبریورپی یونین تجارتی معاملات کا’’مصالحتی کوڈ‘‘، عالمی تجارت کے لئے بہترین حوالہ یورپی یونین تجارتی معاملات کا’’مصالحتی کوڈ‘‘، عالمی تجارت کے لئے بہترین حوالہ سبز رنگ ،چین-یورپی یونین تعاون کا نمایاں رنگ ہے ،چینی وزارت خارجہ برکس میکانزم ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے، چینی وزارت خارجہ چین کے زرمبادلہ کے ذخائر 3.

3174 ٹریلین ڈالر تک جا پہنچے الزامات بے بنیاد ہیں، پی ٹی آئی کے کئی رہنما بھی چیف الیکشن کمشنر سے ملتے رہے، اعلامیہ چوہدری کاشف نواز رندھاوا کا خواب پورا ،چاروں بیٹے حرم نبوی میں قرآن کی تعلیم حاصل کریں گے TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اور رسک مینجمنٹ مصنوعی ذہانت

پڑھیں:

بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔

ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی