جدہ، ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ولیعہد کیساتھ ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اپنے دورہ جدہ کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی ولی عہد و وزرائے خارجہ و دفاع کیساتھ نتیجہ خیز گفتگو کی ہے اسلام ٹائمز۔ برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے برازیل کے دورے پر ایرانی وزیر خارجہ کے ہمراہ موجود وزارت خارجہ کے ترجمان اسمعیل بقائی نے سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے ساتھ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی ملاقات کو "نتیجہ خیز" قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں اسمعیل بقائی نے بتایا کہ سید عباس عراقچی کی سربراہی میں ایرانی وفد نے جدہ میں مختصر قیام کیا جس کے دوران اعلی سعودی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں و گفتگو نتیجہ خیز رہی۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران سید عباس عراقچی و وفد نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی وزرائے خارجہ و دفاع کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فیصل بن فرحان اور خالد بن سلمان کے ساتھ مکہ مکرمہ میں سعودی وزارت خارجہ کے دفتر میں ملاقاتیں ہوئیں جن میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
-
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی وزیر خارجہ خارجہ کے کے ساتھ
پڑھیں:
ایرو اسپیس لوکلائزیشن کے فروغ کیلئے ایک سالہ معاہدہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( کامرس ڈیسک)مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ خطہ کے ایوی ایشن سے سب سے بڑے گروپوں میں سے ایک سعودیہ گروپ نے GE ایرو اسپیس((NYSE: GE) کے ساتھ ایک اسٹریٹجک معاہدے کا اعلان کیا ہے تاکہ سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی سعودیہ کی جانب سے 2023میں آرڈر کئے گئے 39بوئنگ 787-9اور 787-10طیاروںمیں GEnx-1B انجن نصب کئے جاسکیں۔اس معاہدے میں انجنوں کی فراہمی، ایک سالہ دیکھ بھال، مرمت، اور اوور ہال (MRO) پروگرام، اور اضافی انجن کی فراہمی بھی شامل ہے۔اس معاہدے میں سعودیہ ٹیکنک، گروپ کی دیکھ بھال اور انجینئرنگ بازو کے ذریعے صلاحیت سازی کے اقدامات کا ایک سلسلہ بھی شامل ہے،جو تکنیکی تربیت اور علم کی منتقلی کے ذریعے مملکت کی ایرو اسپیس مہارت کو بڑھانے اور مقامی بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔اس حوالے سے سعودیہ گروپ کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر ابراہیم العمر نے کہا کہ’’GE ایرو اسپیس کے ساتھ یہ اسٹریٹجک شراکت داری نہ صرف گروپ کی طویل فاصلے کی پرواز کی صلاحیت کو تبدیل کرے گی اورہمارے فضائی رابطے کو بڑھائے گی، بلکہ مملکت میں اعلیٰ ٹیکنالوجی کی ایوی ایشن کی مہارت کو مقامی بنانے میں بھی تیزی لائے گی۔اس معاہدے کے ذریعے ہم ان انجنوں کے لیے اندرون ملک تکنیکی صلاحیت کو فروغ دینے کے قابل ہو جائیں گے،جس کیلئے ابھی ہم بیرونی ممالک پر انحصار کرتے ہیں، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ سعودی وڑن 2030 کے تحت سرمایہ کاری، مہارت اور قدر مملکت کے اندر ہی رہے۔‘‘GEnx کے انجن اپنے قابل اعتماد اور جدید میٹیریل کیلئے جانے جاتے ہیں،یہ پرواز کے70ملین سے زائد گھنٹے مکمل کرچکے ہیں اور دنیا میں787طیاروں میں سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ GE ایرو اسپیس کا سعودی ایرو اسپیس سیکٹر کے ساتھ 40 سال سے زیادہ کا تعلق ہے اور وہ مقامی ہنر کو فروغ دینے اور تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط کرکے وڑن 2030 کو آگے بڑھانے کے لیے سعودی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ GE ایرو اسپیس اور اس کے مشترکہ منصوبے فی الحال سعودی عرب کے چار سب سے بڑے تجارتی کیریئرز میں زیر استعمال ہیں اور امریکا سے باہر سب سے بڑے F110 بیڑے میں استعمال میں ہیں۔خطے کے سب سے بڑے ایوی ایشن گروپس میں سے ایک کے طور پر سعودیہ گروپ اپنے فضائی بیڑے کی توسیع، نئے بین الاقوامی روٹس اور عالمی صلاحیت میں اضافے پر مرکوز ایک طویل المدتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ساتھ ہی سعودیہ ٹیکنیک سعودی ایوی ایشن اسٹریٹجی اور وڑن 2030 کی حمایت کے لیے تکنیکی اور انجینئرنگ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہی ہے۔