سی ڈی کی تاریخ کا انوکھا فیصلہ ، بورڈ ممبران کی موجیں ہی موجیں، نئی گاڑیوں کیساتھ ساتھ ہر بورڈ میٹنگ پر چالیس ہزار روپے بھی مل رہا ہے ، وزیراعظم کے اخراجات کنٹرول کرنے کے دعوے ہوا ہو گئے، تفصیلات و دستاویزات سب نیوز پر
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
سی ڈی کی تاریخ کا انوکھا فیصلہ ، بورڈ ممبران کی موجیں ہی موجیں، نئی گاڑیوں کیساتھ ساتھ ہر بورڈ میٹنگ پر چالیس ہزار روپے بھی مل رہا ہے ، وزیراعظم کے اخراجات کنٹرول کرنے کے دعوے ہوا ہو گئے، تفصیلات و دستاویزات سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 8 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سجاد ظہور بھٹی )سی ڈی کی تاریخ کا انوکھا فیصلہ ، بورڈ ممبران کی موجیں ہی موجیں، نئی گاڑیوں کیساتھ ساتھ ہر بورڈ میٹنگ پر چالیس ہزار روپے بھی مل رہا ہے ، وزیراعظم کے اخراجات کنٹرول کرنے کے دعوے ہوا ہو گئے۔
سب نیوز کو دسیتاب بورڈ میٹنگز دستاویز کے مطابق کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی دو جنوری 2025 کی بورڈ میٹنگ کے منٹس کے مطابق سی ڈی اے بورڈ ممبران کو ہر میٹنگ کا معاوضہ دیا جائے گا ، 2 جنوری 2025 کی میٹنگ میں تمام ایگریکٹو اور نان ایگزیکٹو ممبران کو معاوضہ دینے کی سمری ممبر ایڈمن طلعت محمود نے پیش کی ، ایجنڈا آئٹم نمبر 12181/1441/BM/25 بورڈ میں پیش کیا گیا جس میں یہ معاملہ اٹھایا گیا کہ 3 مارچ 2021 کو بورڈ نے فیصلہ کیا تھا کہ نان ایگزیکٹو ممبر ان کو معاوضہ دیا جائے تاہم ایگزیکٹو بورڈ ممبران کو بھی اس فارمولے کے مطابق بورڈ میٹنگ کا معاوضہ دیا جائے
اس ضمن میں این ایچ اے ، فیڈرل ہاوسنگ اتھارٹی ، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی ، پاکستان ہاسنگ اتھارٹی ، سمیت متعدد اتھارٹیز کو بطور مثال پیش کیا گیا ،، تاہم ان تمام مثالوں کی روشنی میں بورڈ نے سی ڈی اے بورڈ کے تمام ممبران بشمول سیکرٹری سی ڈی اے بورڈ کو ہر میٹنگ کا 40000 معاوضہ دینے کی اجازت دیدی ، جبکہ بورڈ میٹنگز میں کسی بھی آفیسر کی شرکت پر اس آفیسر کو آٹھ ہزارروپے دیئے جائیں گے ۔ یاد رہے سی ڈی اے کی تاریخ میں یہ انوکھا کام موجود بورڈ نے سرانجام دیا ہے، ایگزیکٹو بورڈ ممبران پہلے ہی تمام سرکاری مراعات لے رہے ہیں ،کیا سرکاری خزانے کے اس طرز کے استعمال پر وزیر اعظم ، وزیر داخلہ ، وفاقی وزیر حنیف عباسی ،وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اس پر توجہ کریں گے ؟؟ کیا یہ اقدام وزیراعظم کی سادگی مہم کے منافی نہیں ؟۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمطیع اللہ جان، اسد طور، صدیق جان سمیت 27 معروف یوٹیوبرز کے چینلز بلاک کرنے کا حکم مطیع اللہ جان، اسد طور، صدیق جان سمیت 27 معروف یوٹیوبرز کے چینلز بلاک کرنے کا حکم ٹرمپ کا فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنے کا منصوبہ سامنے آگیا، نیتن یاہو کا دو ریاستی حل سے انکار زرعی ترقیاتی بینک کا قرض داروں سے 9 ارب روپے وصول نہ کرنے کا انکشاف راولپنڈی میں90 سے زائد بوسیدہ اور خستہ حالت عمارتیں خطرناک قرار افغانستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیمیں پوری دنیا کے لئے خطرہ ہیں: پاکستان مناسب وقت پر ایران پر سے پابندیاں اٹھالوں گا، امریکی صدرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بورڈ میٹنگ کی تاریخ سب نیوز کرنے کے
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔