آئی ٹی برآمدات 3.47 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، سافٹ ویئر کنسلٹنسی سرفہرست
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
پاکستان کی سافٹ ویئر خدمات کی برآمدات میں گزشتہ چند برسوں سے مسلسل اضافہ اپنی جگہ مگر یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی مالی سال کے 11 ماہ میں ہی ایک ارب ڈالر سے زائد زرِمبادلہ حاصل کیا گیا ہو۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی سے لے کر مئی 25-2024 تک پاکستان نے سافٹ ویئر خدمات کی برآمدات کے ذریعے 1.
میڈیا رپورٹس کے مطابق مجموعی طور پر آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات اس عرصے میں 3.47 ارب ڈالر رہی، جن میں سب سے زیادہ حصہ یعنی 29.1 فیصد سافٹ ویئر کنسلٹنسی کا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرنیٹ مسائل کے باوجود پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ
پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن یعنی پاشا کے سینیئر وائس چیئرمین محمد عمیر نظام کے مطابق سافٹ ویئر کنسلٹنسی پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کی سب سے بڑی طاقت ہے، جس نے آئی ٹی برآمدات کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل اور حکومت مشترکہ طور پر خلیجی ممالک، آسیان اور یورپی خطے سمیت نئی منڈیوں میں پاکستان کی سافٹ ویئر برآمدات کو بڑھانے کے لیے سرگرم ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور آئی ٹی کمپنیوں کی مشترکہ کوششوں سے آنے والے برسوں میں سافٹ ویئر برآمدات میں مزید اضافہ ہوگا۔
مزید پڑھیں:پاک امریکا تجارتی معاہدہ پاکستانی معیشت کے لیے کتنا اہم ہے؟
اسٹیٹ بینک کے مطابق، آئی ٹی شعبے نے 534 ملین ڈالر کمپیوٹر سافٹ ویئر، 298 ملین ڈالر کال سینٹرز، اور 199 ملین ڈالر ٹیلی کمیونیکیشن خدمات سے حاصل کیے۔
ایس آئی گلوبل سلوشنز کے سی ای او اور آئی ٹی ایکسپورٹر ڈاکٹر نعمان سعید کے مطابق آئی ٹی اور آئی ٹی سروسز کی برآمدات میں اضافے کا کریڈٹ آئی ٹی کمپنیوں اور حکومتی اقدامات کو جاتا ہے، تاہم، ان کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث خدمات کی مانگ میں کمی آ رہی ہے، جسے آئی ٹی کمپنیاں ایک موقع کے طور پر استعمال کر سکتی ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں غیر ملکی منڈیوں میں بڑے منصوبوں پر توجہ دیں، چاہے وہ سافٹ ویئر ہوں یا ہارڈویئر، یا مختلف شعبوں میں آئی ٹی ایپلی کیشنز کی تنصیب۔
مزید پڑھیں:چھٹی جماعت سے آئی ٹی مضمون کو نصاب کا حصہ قرار دینے کے لیے حکمت عملی بنائی جائے، وزیراعظم کی ہدایت
تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان مالی سال 25-2024 میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے وابستہ خدمات کی برآمدات کے 4 ارب ڈالر کے ہدف کے قریب ہے، تاہم انٹرنیٹ کی بندش کے باعث یہ ہدف 100 سے 150 ملین ڈالر کی کمی سے رہ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ٹی اسٹیٹ بینک پاشا پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن زرمبادلہ سافٹ ویئر سافٹ ویئر کنسلٹنسی مصنوعی ذہانت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ٹی اسٹیٹ بینک پاشا زرمبادلہ سافٹ ویئر مصنوعی ذہانت خدمات کی برآمدات پاکستان کی ملین ڈالر ارب ڈالر کے مطابق ا ئی ٹی کے لیے آئی ٹی
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر