جنگ ستمبر 1965 کے شہید
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
1965 کی جنگ کے دوران جری جانبازوں کی قربانیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جنگ کے 9 ویں روز پاکستان آرمی کے لیفٹیننٹ کرنل صاحبزاد گل اور میجر محمد اشرف خان نے دشمن کے خلاف جوانمردی سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
میجر محمد اشرف خان کا تعلق سپورٹ بٹالین سے تھا اور ان کی ذمے داریوں میں سیالکوٹ کا دفاع شامل تھا۔ 8 ستمبر کو اس بٹالین نے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔
9 ستمبر کو دشمن بھارت نے سیالکوٹ کینٹ کی جانب پیش قدمی شروع کی، جس کی اطلاع ملنے پر میجر محمد اشرف خان نے دشمن کی پیش قدمی کو روکتے ہوئے ان کے دو ٹینک تباہ کردیے۔
میجر محمد اشرف اپنی جیپ پر میدان جنگ کا جائزہ لے رہے تھے کہ دشمن کا فائر لگنے سے جام شہادت نوش کرگئے۔
لیفٹیننٹ کرنل صاحبزاد گل آرمر رجمنٹ کی قیادت کر رہے تھے، انہوں نے قصور کی جانب پیش قدمی کرتے دشمن بھارت کو بہادری کے ساتھ بارڈر کی جانب دھکیل دیا اور 8 ستمبر کو کھیم کرن سیکٹر پر قبضہ کرلیا۔
9 ستمبر کو لیفٹیننٹ کرنل صاحبزادہ وال تھوا ریلوے سٹیشن پر قبضہ کرنے کی کوشش کا آغاز کیا اور دشمن کی سخت مزاحمت کے باوجود اس میں کامیاب رہے۔
وال تھوا ریلوے سٹیشن پر قبضہ کرنے کے بعد دشمن نے اس کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے بھرپور حملہ کیا جس کے دفاع کے دوران لیفٹیننٹ کرنل صاحبزاد گل شہید ہو گئے۔
لیفٹیننٹ کرنل صاحبزاد گل کو بہادری کے اعتراف میں بعد از شہادت ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔
میجر محمد اشرف خان اور لیفٹیننٹ کرنل صاحبزاد گل (ستارہ جرأت) کا نام جنگ ستمبر 1965 کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ستمبر کو
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔