اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 ستمبر2025ء) وفاقی محتسب اعجاز احمد قر یشی نے کہا ہے کہ پا کستان کے وفاقی محتسب کو دنیا بھر کے محتسبین میں پذ یر ائی حا صل ہو رہی ہے۔ ترجمان کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حا ل ہی میں مجھے چین کے شہر نا نجنگ میں ایشین امبڈ سمین ایسو سی ایشن کے بو رڈ آ ف ڈا ئر یکٹرز کے 26 ویں سا لا نہ اجلا س اور اس کی جنر ل اسمبلی کے 18 ویں اجلا س کی صدا رت کا اعزاز حا صل ہوا، ان اجلا سوں کے دوران وہا ں انتہا ئی مفید اور نتیجہ خیز سیشن ہوئے، جن میں ایشین امبڈ سمین ایسو سی ایشن کے اہداف اور مقاصد کے ساتھ ساتھ مستقبل کے چیلنجوں کے حوالے سے اب تک کی پیشرفت پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلا س کے دوران ایشین امبڈ سمین ایسو سی ایشن کی سال بھر کی سر گر میوں کا بھی جا ئزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ 2022-23ء میں اے او اے کی 148 سر گر میاں (Activities) ہو ئی تھیں جو سال 2024-2025 میں بڑ ھ کر 347 ہو گئیں۔ اجلا س میں فیصلہ کیا گیا کہ 2026ء میں 30 سال مکمل ہو نے پر ایشین امبڈ سمین ایسو سی ایشن کی 30 ویں سا لگر ہ ہا نگ کا نگ میں بھر پو ر طر یقے سے منا ئی جا ئے گی۔

جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد ”عوام النا س کی سہو لت کے لئے محتسب کے اداروں کا کر دار“ کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں ایشیائی خطے اور اس سے باہر کے وفود کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مجھے اس کا نفر نس کی صدا رت کا بھی مو قع ملا۔انہوں نے وفاقی محتسب کے بین الاقوامی کردار کا ذکر کر تے ہو ئے بتا یا کہ ایشین امبڈ سمین ایسو سی ایشن(اے او اے)کے صدر کی حیثیت سے وہ محتسب کے تصور کو ایشیا اور دنیا بھر میں عام کر نے کے لئے کو شاں ہیں۔

انہوں نے بتا یا کہ ایشین امبڈ سمین ایسوسی ایشن (اے او اے)47 رکنی غیر سیا سی، جمہو ری اور پیشہ وارانہ مضبوط تنظیم ہے جو دنیا کی تقریباً دو تہائی آ با دی کی نمائندگی کرتی ہے۔ اے او اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں پاکستان کے علاوہ آذربائیجان، چین، ہانگ کانگ، ایران، جاپان، کوریا، تاتا رستان اور ترکیہ کے محتسب کے اداروں کے سربراہان شامل ہیں۔

1996 میں اے او اے کے قیام میں پاکستان اور چین نے بنیا دی کر دار ادا کیا تھا۔ دونوں نے ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر اس کی بنیا د رکھی تھی۔ آپ جا نتے ہیں کہ پا کستان اور چین ایک دوسر ے کے انتہا ئی قر یبی دوست ہیں جو ہر بین الا قوا می فو رم پر ہم آواز ہوتے ہیں۔ ایشین امبڈ سمین ایسو سی ایشن کے فو رم پر بھی پا کستان اور چین کا تعا ون مثا لی ہے جس کی وجہ سے اے او اے کا ادارہ اب مضبو ط بنیا دوں پر استوار ہو چکا ہے۔

پاکستان، اے او اے کے با نی رکن کے طور پر اس باوقار تنظیم میں ممتاز حیثیت کا حامل ہے۔ ایشین امبڈ سمین ایسو سی ایشن کے قیام کے بعد سے اب تک اس کی صدا رت ز یادہ تر پا کستان کے پا س ہی رہی ہے۔ انہوں نے وفا قی محتسب کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے بتا یا کہ اب تک سال 2024ء ایک اہم سال تھا، کیو نکہ اس سال دو لا کھ 26 ہزار371 شکایات میں سے 223,171 شکا یات کے فیصلے کئے گئے۔

تو قع ہے کہ اس سال یہ تعداد اڑ ھا ئی لا کھ سے بڑ ھ جا ئے گی کیو نکہ 15 ستمبر2025ء تک رواں سال کے دوران شکا یات کی تعداد 180,000 سے تجا وز کر چکی ہے جب کہ 176,828 شکا یات کے فیصلے کئے جا چکے ہیں۔انہوں نے سمندر پا ر پا کستا نیوں کے لئے اٹھا ئے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتا یا کہ سال2025 ء کے دوران بیرون ملک پا کستا نیوں کی شکا یات اورپا کستان کے بین الا قوا می ہوا ئی اڈوں پر قا ئم کردہ یکجاسہولیا تی ڈیسکوں کے ذریعے 90 ہزار سے زا ئد شکا یت کنند گان کو سہو لیا ت فرا ہم کی جا چکی ہیں ۔

وفاقی محتسب نے بتا یا کہ بچوں کے مسا ئل کے حل اور ان کی شکایات کے ازالے کے لئے ایک ہمہ وقتی ”شکا یا ت کمشنر برا ئے اطفال“ کام کر رہا ہے جس کا دفتر بھی اسی بلڈ نگ میں مو جود ہے۔اس سال اب تک بچوں کی 450 شکا یات مو صول ہوچکی ہیں۔وفاقی محتسب نے ان خیا لا ت کا اظہار گز شتہ روز وفاقی محتسب سیکر ٹیر یٹ میں میڈ یا کے نما ئند وں کے ساتھ ایک ملا قا ت کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ رواں سال کے دوران عوام النا س کو ان کے گھر کی دہلیز پر انصا ف فرا ہم کر نے کے لئے ملک بھر میں 112کھلی کچہر یاں منعقد کی گئیں۔ او سی آ ر پروگرام کے تحت 172 دوروں کے دوران ہزاروں شکا یات نمٹا ئی گئیں، جب کہ سر کا ری اداروں کے نظا م کی اصلا ح اور خد مات کو بہتر بنا نے کے لئے وفاقی محتسب کی.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایشین امبڈ سمین ایسو سی ایشن کے وفاقی محتسب اے او اے کے بتا یا کہ کے دوران کستان کے پا کستان محتسب کی انہوں نے محتسب کے شکا یات کے لئے اجلا س

پڑھیں:

وفاقی حکومت کا ہنگامی اقدام، 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی دستیابی یقینی بنانے اور صوبوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ وفاق اور چاروں صوبوں کے درمیان گندم کے ذخائر، سپلائی اور قیمتوں کی موجودہ صورتحال پر ہونے والے تفصیلی مشاورتی اجلاس میں اتفاقِ رائے سے کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:کیا اس سال پاکستان میں گندم کا بحران پیدا ہوسکتا ہے؟

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ عوام کو سستی اور معیاری گندم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک میں گندم کی قلت پیدا نہ ہو اور مارکیٹ میں قیمتوں کا استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

پاسکو کے ذخائر صوبوں کو فراہم کرنے کا فیصلہ

مشاورت کے دوران طے پایا کہ پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن، ‘پاسکو’، کے پاس موجود گندم کے ذخائر فوری طور پر صوبوں کی ضروریات کے مطابق جاری کیے جائیں گے تاکہ طلب اور رسد کے درمیان موجود فرق کو کم کیا جا سکے۔

تاہم اجلاس میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ صوبوں کی مجموعی ضرورت پاسکو کے دستیاب ذخائر سے زیادہ ہے، جس کے باعث اضافی گندم درآمد کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔

10 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جائے گی

وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملکی ضروریات پوری کرنے اور گندم کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم بیرون ملک سے درآمد کی جائے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف طلب پوری ہوگی بلکہ مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام میں بھی مدد ملے گی۔

وفاقی وزیر غذائی تحفظ کا بیان

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت عوام کو سستی اور معیاری گندم کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:صوبوں کے درمیان گندم کی ترسیل پر پابندیاں، بلوچستان میں آٹے کا شدید بحران، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

ان کے مطابق پاسکو کے موجودہ ذخائر فوری طور پر صوبوں کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ صوبوں کی مجموعی ضرورت دستیاب سرکاری ذخائر سے زیادہ ہے، اس لیے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ملکی ضروریات پوری ہوں گی اور گندم کی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

حکومت اس سے قبل بھی گندم کی فراہمی اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کرتی رہی ہے۔

حالیہ فیصلے کا مقصد بڑھتی ہوئی طلب، صوبوں کی ضروریات اور ممکنہ سپلائی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت انتظامات کرنا ہے، تاکہ ملک بھر میں گندم اور آٹے کی دستیابی متاثر نہ ہو اور عوام کو مناسب نرخوں پر اشیائے خور و نوش فراہم کی جا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

10 لاکھ ٹن گندم پاسکو درآمد کرنے کا فیصلہ گندم وفاقی حکومت وفاقی وزیر

متعلقہ مضامین

  • وفاقی حکومت کا ہنگامی اقدام، 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • ایشین گیمز کرکٹ : پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو براہِ راست کوارٹر فائنل میں رسائی مل گئی
  • سائوتھ ایئر کا نجی ایئر فیلڈز پر کمرشل پروازوں کا اجازت نامہ منسوخ
  • ایشین گیمز 2026 :کرکٹ مقابلوں کے شیڈول اور گروپس کا اعلان
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان