ریکارڈ ترسیلات زر، مالی سال 2025 میں 38.3 ارب ڈالر پاکستان منتقل
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ملکی معیشت پر اعتماد اور اپنوں سے جڑے رہنے کی مثال قائم کرتے ہوئے مالی سال 25-2024 کے دوران 38.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات پاکستان بھجوائیں، جو ملکی تاریخ میں ایک سال کے دوران بھیجی جانے والی بلند ترین رقم ہے۔
اس سے گزشتہ مالی سال 24-2023 کے دوران ترسیلات زر کا حجم 30.3 ارب ڈالر رہا تھا، اس لحاظ سے سال بہ سال بنیاد پر ترسیلات میں 8 ارب ڈالر یعنی 26.
اس تاریخی کارکردگی میں سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے بھجوائی گئیں جو کہ 9.3 ارب ڈالر رہیں۔
متحدہ عرب امارات سے 7.8 ارب ڈالر، برطانیہ سے 5.9 ارب ڈالر، یورپی ممالک سے 4.5 ارب ڈالر اور امریکا سے 3.7 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔
قانونی ذرائع سے ترسیلات کا فروغ
رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پاکستان ریمی ٹینس انیشیٹوو (PRI) جیسے اقدامات نے قانونی ذرائع سے ترسیلات بھجوانے کے عمل کو نہ صرف محفوظ بلکہ آسان اور تیز تر بنایا ہے۔
PRI کے تحت ترسیلات پر فیس کی چھوٹ، بینکنگ نظام کی ڈیجیٹل اپ گریڈیشن، اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے آگاہی مہمات نے غیر رسمی ذرائع کو کم کیا اور ترسیلات کو بینکاری ذرائع سے بھیجنے میں سہولت دی۔
اعدادوشمار کے مطابق صرف جون 2025 کے مہینے میں پاکستانی کارکنوں نے 3.4 ارب ڈالر کی ترسیلات وطن بھجوائیں، جو گزشتہ سال کے جون کی نسبت 7.9 فیصد زائد ہیں۔
ماہِ جون کے دوران سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے 823.2 ملین ڈالر،
متحدہ عرب امارات سے 717.2 ملین ڈالر، برطانیہ سے 537.6 ملین ڈالر اور امریکہ سے 281.2 ملین ڈالر موصول ہوئیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں اس نمایاں اضافے کا سبب پاکستان ریمی ٹینس انیشیٹوو جیسے اصلاحاتی اقدامات، قانونی ذرائع کی سہولت، اور زرمبادلہ پالیسیوں میں بہتری ہے، جس نے ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملین ڈالر ارب ڈالر کے دوران
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔