امریکہ کے بعد چین اور روس کی بھی بھارت کودھمکی
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
نئی دہلی(انٹرنیشنل ڈیسک)بھارتی صحافی دنیش کے وِہرا نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مودی کی غیر مستقل مزاجی اور موقع پرستی نے بھارت کے عالمی تعلقات، بالخصوص امریکا کے ساتھ روابط کو نقصان پہنچایا ہے۔
دنیش کے وِہرا نے ایک نجی گفتگو میں کہا کہ مودی حکومت نے ہمیشہ وقتی فائدے کو ترجیح دی، لیکن طویل المدتی تعلقات میں سنجیدگی اور استحکام دکھانے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں بھی ایسی ہی غیر سنجیدگی دکھائی۔ پہلے “اب کی بار ٹرمپ سرکار” کے نعرے سے ٹرمپ کو سپورٹ کیا، لیکن جب حالات بدلنے لگے اور ٹرمپ کمزور دکھائی دیے تو مودی نے اپنا رویہ بدل لیا۔
صحافی کے مطابق ٹرمپ ہمیشہ یہ چاہتے تھے کہ بھارت ان کے ساتھ کھڑا ہو اور بعض معاملات میں انہیں کریڈٹ بھی دے، جیسے 2019 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران سیز فائر کی کوششوں میں۔ لیکن مودی حکومت نے یہ تسلیم کرنے کے بجائے تمام کریڈٹ خود لینے کی کوشش کی۔ اس رویے سے ٹرمپ سخت نالاں ہوئے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کمزور ہوگئی۔
دنیش کے وِہرا نے کہا کہ مودی حکومت نے عالمی فورمز پر بھی کئی مواقع ضائع کیے۔ جی سیون اجلاس میں جب ٹرمپ نے کینیڈا میں ملاقات کی خواہش ظاہر کی، تو مودی نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کروشیا جا رہے ہیں۔ اس انکار سے امریکا اور بھارت کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہوا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے بھارت پر تجارتی دباؤ بڑھایا گیا، ٹیرف عائد کیے گئے لیکن مودی حکومت اس صورتحال کو سنبھالنے کے بجائے اندرونی سیاست پر فوکس کرتی رہی۔ نتیجتاً بھارت عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا شکار ہوا۔
دنیش وِہرا نے مزید کہا کہ وائٹ ہاؤس کے قریبی حلقے مودی کی قیادت کو غیر سنجیدہ اور غیر قابل اعتماد سمجھنے لگے ہیں۔ امریکا کے اعلیٰ عہدیداروں نے کھلے عام کہا کہ بھارت صرف دکھاوے کی حد تک امریکا کے قریب ہے، حقیقت میں وہ روس اور اپنی اندرونی سیاست کو ترجیح دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی اس پالیسی نے بھارت کی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچایا ہے اور امریکا جیسی بڑی طاقت کے ساتھ تعلقات میں بداعتمادی کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر بھارت نے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی نہ کی تو طویل مدت میں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات مزید کمزور ہوں گے۔
@aslamzindagi583 #indiamedia #foryou #1millionviews #100kfollowers #trending #infreezmyacount #fllowme_guy ♬ original sound – Muhammad AslamPost Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ مودی مودی حکومت تعلقات میں امریکا کے نے کہا کہ کے ساتھ
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔