Daily Mumtaz:
2026-06-03@05:38:57 GMT

امریکہ کے بعد چین اور روس کی بھی بھارت کودھمکی

اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT

امریکہ کے بعد چین اور روس کی بھی بھارت کودھمکی

نئی دہلی(انٹرنیشنل ڈیسک)بھارتی صحافی دنیش کے وِہرا نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مودی کی غیر مستقل مزاجی اور موقع پرستی نے بھارت کے عالمی تعلقات، بالخصوص امریکا کے ساتھ روابط کو نقصان پہنچایا ہے۔

دنیش کے وِہرا نے ایک نجی گفتگو میں کہا کہ مودی حکومت نے ہمیشہ وقتی فائدے کو ترجیح دی، لیکن طویل المدتی تعلقات میں سنجیدگی اور استحکام دکھانے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں بھی ایسی ہی غیر سنجیدگی دکھائی۔ پہلے “اب کی بار ٹرمپ سرکار” کے نعرے سے ٹرمپ کو سپورٹ کیا، لیکن جب حالات بدلنے لگے اور ٹرمپ کمزور دکھائی دیے تو مودی نے اپنا رویہ بدل لیا۔

صحافی کے مطابق ٹرمپ ہمیشہ یہ چاہتے تھے کہ بھارت ان کے ساتھ کھڑا ہو اور بعض معاملات میں انہیں کریڈٹ بھی دے، جیسے 2019 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران سیز فائر کی کوششوں میں۔ لیکن مودی حکومت نے یہ تسلیم کرنے کے بجائے تمام کریڈٹ خود لینے کی کوشش کی۔ اس رویے سے ٹرمپ سخت نالاں ہوئے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کمزور ہوگئی۔

دنیش کے وِہرا نے کہا کہ مودی حکومت نے عالمی فورمز پر بھی کئی مواقع ضائع کیے۔ جی سیون اجلاس میں جب ٹرمپ نے کینیڈا میں ملاقات کی خواہش ظاہر کی، تو مودی نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کروشیا جا رہے ہیں۔ اس انکار سے امریکا اور بھارت کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہوا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے بھارت پر تجارتی دباؤ بڑھایا گیا، ٹیرف عائد کیے گئے لیکن مودی حکومت اس صورتحال کو سنبھالنے کے بجائے اندرونی سیاست پر فوکس کرتی رہی۔ نتیجتاً بھارت عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا شکار ہوا۔

دنیش وِہرا نے مزید کہا کہ وائٹ ہاؤس کے قریبی حلقے مودی کی قیادت کو غیر سنجیدہ اور غیر قابل اعتماد سمجھنے لگے ہیں۔ امریکا کے اعلیٰ عہدیداروں نے کھلے عام کہا کہ بھارت صرف دکھاوے کی حد تک امریکا کے قریب ہے، حقیقت میں وہ روس اور اپنی اندرونی سیاست کو ترجیح دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی اس پالیسی نے بھارت کی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچایا ہے اور امریکا جیسی بڑی طاقت کے ساتھ تعلقات میں بداعتمادی کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر بھارت نے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی نہ کی تو طویل مدت میں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات مزید کمزور ہوں گے۔

@aslamzindagi583 #indiamedia #foryou #1millionviews #100kfollowers #trending #infreezmyacount #fllowme_guy ♬ original sound – Muhammad Aslam

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کہا کہ مودی مودی حکومت تعلقات میں امریکا کے نے کہا کہ کے ساتھ

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد