یوٹا کاؤنٹی شیرف آفس کے مطابق ایک شخص، جارج زن، نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ چارلی کرک کو اس نے گولی ماری تاکہ اصل حملہ آور فرار ہو سکے۔

جارج زن اب انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے (Obstruction of Justice) کے الزام کا سامنا کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی قدامت پسند کارکن چارلی کرک کو 10 ستمبر کو یوٹا ویلی یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ اصل مشتبہ قاتل ٹائلر رابنسن کو گزشتہ جمعے گرفتار کر لیا گیا، جب اس کے والد نے نگرانی کی فوٹیج میں اپنے بیٹے کو پہچان کر اسے حکام کے حوالے کرنے پر آمادہ کیا۔

شیرف آفس کے بیان میں کہا گیا کہ فائرنگ کے فوراً بعد زن چلانے لگا کہ ’میں نے کرک کو گولی ماری ہے‘۔ پولیس نے اسے حراست میں لیا لیکن بعد میں طبی مسئلے کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس نے اعتراف کیا کہ اس نے جان بوجھ کر غلط دعویٰ کیا تھا تاکہ تفتیش متاثر ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا ’فی الحال کوئی ثبوت نہیں ہے کہ جارج زن کا اصل شوٹر کے ساتھ کوئی تعلق تھا۔‘

اس دوران رابنسن پر سخت گیر قتل (Aggravated Murder) کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یوٹا کے گورنر اسپنسر کاکس نے کہا ہے کہ ریاست اس کے خلاف سزائے موت کا مطالبہ کرے گی۔

یوٹا کاؤنٹی اٹارنی جیف گرے کے مطابق ملزم کی والدہ نے بتایا کہ رابنسن گزشتہ برس سے زیادہ سیاسی طور پر سرگرم ہوا اور اس کے نظریات ’ترقی پسندی‘ کی طرف چلے گئے، خصوصاً ہم جنس پرسوں کے حقوق کی حمایت میں۔

 گرے نے مزید کہا کہ رابنسن اپنے روم میٹ کے ساتھ رومانوی تعلق میں ہے جو جنس کی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔

31 سالہ چارلی کرک نے قدامت پسند تنظیم ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کی بنیاد رکھی تھی اور وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرجوش حامی تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چارلی کرک کرک کو

پڑھیں:

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔

مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی