چارلی کرک کو قتل کرنے کا دعویٰ کرنے والا بیان سے مکر گیا، حقیقت بیان کردی
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
یوٹا کاؤنٹی شیرف آفس کے مطابق ایک شخص، جارج زن، نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ چارلی کرک کو اس نے گولی ماری تاکہ اصل حملہ آور فرار ہو سکے۔
جارج زن اب انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے (Obstruction of Justice) کے الزام کا سامنا کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی قدامت پسند کارکن چارلی کرک کو 10 ستمبر کو یوٹا ویلی یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ اصل مشتبہ قاتل ٹائلر رابنسن کو گزشتہ جمعے گرفتار کر لیا گیا، جب اس کے والد نے نگرانی کی فوٹیج میں اپنے بیٹے کو پہچان کر اسے حکام کے حوالے کرنے پر آمادہ کیا۔
شیرف آفس کے بیان میں کہا گیا کہ فائرنگ کے فوراً بعد زن چلانے لگا کہ ’میں نے کرک کو گولی ماری ہے‘۔ پولیس نے اسے حراست میں لیا لیکن بعد میں طبی مسئلے کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس نے اعتراف کیا کہ اس نے جان بوجھ کر غلط دعویٰ کیا تھا تاکہ تفتیش متاثر ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا ’فی الحال کوئی ثبوت نہیں ہے کہ جارج زن کا اصل شوٹر کے ساتھ کوئی تعلق تھا۔‘
اس دوران رابنسن پر سخت گیر قتل (Aggravated Murder) کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یوٹا کے گورنر اسپنسر کاکس نے کہا ہے کہ ریاست اس کے خلاف سزائے موت کا مطالبہ کرے گی۔
یوٹا کاؤنٹی اٹارنی جیف گرے کے مطابق ملزم کی والدہ نے بتایا کہ رابنسن گزشتہ برس سے زیادہ سیاسی طور پر سرگرم ہوا اور اس کے نظریات ’ترقی پسندی‘ کی طرف چلے گئے، خصوصاً ہم جنس پرسوں کے حقوق کی حمایت میں۔
گرے نے مزید کہا کہ رابنسن اپنے روم میٹ کے ساتھ رومانوی تعلق میں ہے جو جنس کی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔
31 سالہ چارلی کرک نے قدامت پسند تنظیم ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کی بنیاد رکھی تھی اور وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرجوش حامی تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی