’کیک پر لکھ دینا چھیپا صاحب کی طرف سے تحفہ ہے لیکن یہ مت بتانا میں نے دیا ہے‘
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
کراچی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جولائی 2025ء ) چھیپا ویلفیئر کی وائرل ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرے سامنے آگئے۔ تفصیلات کے مطابق چھیپا ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے اپنے بانی رمضان چھیپا کی ایک ویڈیو شیئر کی گئی، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رمضان چھیپا ایک دکاندار سے کیک خرید رہے ہیں کہ اس دوران ایک بچہ اپنے والد کے ساتھ سالگرہ کا کیک لینے وہاں پہنچا اور بچے کو ایک مہنگا کیک پسند آ جاتا ہے لیکن والد کے پاس اتنی رقم نہیں ہوتی اس لیے وہ اس نے بیٹے کو سستا کیک خریدنے کا مشورہ دیا لیکن بیٹا نہ مانا اور ناراض ہوکر باہر چلا گیا۔
باپ بیٹے کی گفتگو سن کر رمضان چھیپا نے دکاندار سے کہا کہ ’براہِ کرم بچے کو وہی کیک دے دیجیئے جو وہ چاہتا ہے، اس کی باقی قیمت میں ادا کردوں گا، کیک پر یہ بھی لکھ دیجیے گا کہ یہ چھیپا صاحب کی طرف سے سالگرہ کا تحفہ ہے لیکن انہیں میرے بارے میں ہرگز نہیں بتائیے گا کہ یہ میں نے دیا ہے‘۔(جاری ہے)
سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو پر صارفین کی طرف سے دلچسپ تبصرے کیے جارہے ہیں جہاں ایک صارف نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ ’چھیپا صاحب، آپ خود کہہ رہے ہیں کہ کیک پر آپ کا نام لکھا جائے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ نہ بتائیں کہ آپ نے بھیجا ہے، واقعی؟‘، بعض صارفین نے اپنے تبصرے میں قرار دیا کہ ’یہ ویڈیو کسی سوشل میڈیا انفلوئنسر کی لگتی ہے‘، اسی طرح ایک اور سوشل میڈیا صارف نے مزاحیہ انداز اختیار کرتے ہوئے لکھا کہ ’چھیپا صاحب، باہر کا ویزہ لگوا دیں اور یقین مانیں میں کسی کو نہیں بتاؤں گی کہ ویزہ آپ نے لگوایا ہے‘۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے چھیپا صاحب
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ