وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ استحکام کے بعد حکومت کا ہدف ملکی معیشت کی ترقی، برآمدات میں اضافہ، روزگار کی فراہمی اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: زرعی پیداوار بڑھانے، کسانوں کو سہولیات اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کا جامع اصلاحاتی پلان طلب

منگل کے روز وزیرِ اعظم سے صنعتی شعبے سے تعلق رکھنے والی معروف کاروباری شخصیات نے ملاقات کی۔ ملاقات میں معیشت، صنعت کی ترقی، برآمدات میں اضافے، اور کاروباری برادری کے مسائل کے حل پر مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر کاروباری شخصیات نے ملکی معاشی استحکام پر وزیرِ اعظم کی قیادت اور حکومتی معاشی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔

معاشی استحکام کا سہرا ٹیم کی محنت کو جاتا ہے

وزیرِ اعظم نے شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام کا سہرا حکومتی ٹیم کی انتھک محنت کو جاتا ہے۔ استحکام کے بعد حکومت کا ہدف معیشت کی ترقی، برآمدات میں اضافہ، روزگار کی فراہمی، صنعتی ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہے۔

خود کفالت کے لیے مقامی وسائل کا استعمال

وزیرِ اعظم نے کہا کہ اب ہمیں مقامی سطح پر وسائل بروئے کار لا کر معیشت کو مضبوط کرنا ہے تاکہ پاکستان کو خود کفیل بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری کی تجاویز نہایت اہم ہیں اور وہ ہر ماہ باقاعدگی سے ملاقات کرکے مشاورتی عمل کو جاری رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل معیشت کی رفتار تیز کریں، وزیراعظم شہباز شریف کا اعلیٰ سطح اجلاس میں حکم

وزیرِ اعظم نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ملاقاتیں بھی بامعنی اور نتیجہ خیز ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر شعبے سے نجی کاروباری نمائندوں اور ماہرین سے مشاورت کی جائے گی۔ ترقی کا یہ طویل سفر ہم سب کو محنت اور باہمی تعاون سے طے کرنا ہے۔

شرکاء کی حکومتی اقدامات کی تعریف

شرکاء نے وزیرِ اعظم کی قیادت میں معاشی استحکام کے لیے حکومتی ٹیم کی کاوشوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے آئی ایم ایف کے ساتھ طویل اور صبرآزما مذاکرات کے بعد ملکی معیشت کو بچانے کے لیے پروگرام کو حتمی شکل دی اور اس پر عملدرآمد یقینی بنایا۔

بجٹ کو کاروبار دوست اقدام قرار

شرکاء کا کہنا تھا کہ حالیہ بجٹ عوام دوست ہے اور کاروباری آسانی کی سمت ایک درست قدم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومتی پالیسیوں کو سرمایہ کاری اور صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سہولیات کی ضرورت

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مزید سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے ٹیکس نظام میں اصلاحات، بندرگاہوں پر کلیئرنس کے نظام میں شفافیت و تیزی اور نجی شعبے کی تجاویز کی شمولیت کی تعریف کی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں پیٹرولیم سپلائی سے متعلق ہنگامی اجلاس آج ہوگا

اجلاس میں حکومتی ارکان نے وزیرِاعظم اور شرکاء کو بریفنگ دی۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ بجٹ میں دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے عام آدمی، کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کو سہولیات دی گئی ہیں۔

صنعت و سرمایہ کاری میں وسعت کی گنجائش

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں صنعت و سرمایہ کاری کو وسعت دینے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ حکومتی ٹیم نجی شعبے کے ساتھ روابط مضبوط بنانے پر کوشاں ہے۔

عالمی مسابقت، ڈیجیٹائزیشن اور نجکاری

بریفنگ میں بتایا گیا کہ برآمدات کی عالمی منڈی میں مسابقت کے لیے لاگت میں کمی، خاص طور پر بجلی کی قیمتیں گھٹانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن سے سرمایہ کاری میں آسانی لائی جا رہی ہے، جبکہ حکومتی حجم کم کرنے کے لیے اداروں کی نجکاری پر کام جاری ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا نفاذ

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جدید آئی ٹی ایکو سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔ زراعت سمیت مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام بھی تشکیل دیا جا رہا ہے۔

بندرگاہوں کی توسیع

بریفنگ کے مطابق بندرگاہوں کی توسیع اور گوادر بندرگاہ کو مکمل فعال بنانے کے لیے برآمد کنندگان سے مشاورت تیز کی جارہی ہے۔

زراعت میں جدید اصلاحات

زراعت میں جدید ٹیکنالوجی، معیاری بیج، مشینری، اور موجودہ دور کے جدید نظام متعارف کرانے پر کام جاری ہے۔

مختلف شعبوں کی نمائندگی

ملاقات میں ٹیکسٹائل، زراعت، سیمنٹ، اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں کی معروف کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ وزراء رانا تنویر حسین، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، سردار اویس لغاری، علی پرویز ملک، شزہ فاطمہ خواجہ، حنیف عباسی، جیند انور چوہدری، وزیراعظم کے زراعت سے متعلق کوآرڈینیٹر احمد عمیر، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news شہباز شریف کاروباری شخصیات ملاقات وزیراعظم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شہباز شریف کاروباری شخصیات ملاقات بیرونی سرمایہ کاری کاروباری شخصیات سرمایہ کاری میں معاشی استحکام شہباز شریف میں اضافہ انہوں نے معیشت کی کی ترقی ٹیم کی نے کہا کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری

اسلام آباد:ملک میں پیٹرولیم مصنوعات، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اب ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کابینہ کمیٹی برائے ادویات کی قیمتوں کا اہم اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ادویات کی قیمتوں اور ان کی دستیابی سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج، سیکریٹری قومی صحت، چیف ایگزیکٹو آفیسرڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور وزارتِ خزانہ و تجارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ڈریپ نے نئی ادویات کی قیمتوں کے تعین، ہارڈ شپ درخواستوں، قیمتوں سے متعلق مختلف معاملات اور ضروری ادویات کی مارکیٹ میں دستیابی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا اور مختلف سفارشات پیش کی گئیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق تمام فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی، مشاورتی عمل اور وسیع تر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو ایک متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ ایک جانب مریضوں کو ضروری ادویات مناسب قیمت پر دستیاب رہیں اور دوسری جانب ادویہ ساز صنعت کی پائیدار پیداوار اور فراہمی بھی متاثر نہ ہو۔

محمد اورنگزیب نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق کیے جانے والے فیصلوں اور ان کی وجوہات سے عوام کو بروقت اور واضح انداز میں آگاہ کیا جائے، تاکہ کسی بھی ممکنہ فیصلے کے پس منظر اور مقاصد کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی کی سفارشات اور ڈریپ کی تجاویز کی روشنی میں آئندہ دنوں میں ادویات کی قیمتوں سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں، تاہم حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عوامی مفاد اور مریضوں کی سہولت کو ہر صورت ترجیح دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت کا سرکاری ترجمانوں سے متعلق قانون سازی کا فیصلہ
  • ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری