’’ڈرامہ انڈسٹری خواتین کےلیے غیر محفوظ ہے‘‘، ریحام رفیق کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
پاکستان کی ابھرتی ہوئی اداکارہ ریحام رفیق نے ڈرامہ انڈسٹری کے اندر خواتین کےلیے غیر محفوظ ماحول کے بارے میں اہم انکشافات کیے ہیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے نئی آنے والی اداکاراؤں کو خبردار کیا کہ وہ اس شعبے میں آنے سے پہلے ممکنہ چیلنجز اور خطرات سے آگاہ ہوجائیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہاں محض مقابلہ نہیں، منفی رویے بھی ہیں‘‘۔
ریحام رفیق نے پروگرام کی میزبان سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ڈرامہ انڈسٹری میں اداکاراؤں کے درمیان مسابقت کا ماحول تو فطری بات ہے، لیکن بعض اوقات یہی مقابلہ منفی رویوں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’میں خود کسی سے مقابلہ کرنے یا موازنہ کرنے پر یقین نہیں رکھتی، لیکن میں نے دیکھا ہے کہ کچھ فنکارائیں حسد کی وجہ سے دوسروں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتی ہیں۔‘‘
اداکارہ نے کہا کہ صرف شوبز نہیں، ہر شعبے میں خواتین غیر محفوظ ہیں۔ ریحام نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مسئلہ صرف ڈرامہ انڈسٹری تک محدود نہیں، بلکہ زیادہ تر پیشہ ورانہ شعبوں میں خواتین کو مختلف قسم کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہر لڑکی کو ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے اور اپنی حفاظت کے طریقے جاننے چاہئیں۔‘‘
انہوں نے واضح کیا کہ انڈسٹری میں ہر قسم کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ ’’یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ کس راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ میرے ساتھ ذاتی طور پر کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، لیکن مجموعی طور پر میں ڈرامہ انڈسٹری کو خواتین کے لیے غیر محفوظ قرار دیتی ہوں۔‘‘
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: غیر محفوظ
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن