سول انتظامی اداروں کی نا اہلی کا نوحہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
کراچی کے قدیمی علاقے لیاری، بغدادی میں دو روز قبل گرنے والی عمارت کا ملبہ ہٹا دیا گیا، ریسکیو آپریشن کے دوران ملبے سے 27 افراد کی لاشیں نکالی گئیں، 12 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، ریسکیو آپریشن مکمل کرنے میں تقریباً 50 سے زائد گھنٹے لگے۔
سندھ حکومت کی نگرانی میں فعال اور موثر ریسکیو آپریشن کیا گیا اور صوبائی حکومت کی موجودگی نظر آئی، لیکن دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، میونسپل کارپوریشن اور دیگر متعلقہ ادارے اس عمارت کی خطرناک حالت سے باخبر تھے، مگر مسلسل تاخیر، نااہلی اور فرائض کی عدم ادائیگی کا مظاہرہ کیا گیا۔
اکثر اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ مالی مجبوریوں کے باعث شہری ان مخدوش عمارتوں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے، لیکن متعلقہ محکموں کے افسروں اور ملازمین کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ ایسی خطرناک عمارتوں کو مکینوں سے خالی کرانے کے لیے فوری راستہ نکالیں تاکہ انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے، متعلقہ حکام کے علم میں یہ بات پہلے سے تھی کہ یہ عمارت کسی بھی وقت منہدم ہو سکتی ہے، لیکن اسے بروقت خالی کرانے کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔
ریسکیو آپریشن کے دوران بہت سی کمیاں اور خامیاں عیاں ہوئی ہیں۔ کنکریٹ کاٹنے والی جدید مشینیں نہیں تھیں،ملبے کے نیچے دھبے لوگوں کی نشاندہی کے لیے جدید سنسر مشینیں نہیں تھیں، تربیت یافتہ عملے کی کمی بھی محسوس کی گئی ، اگر یہ سب کچھ ہوتا تو شاید اموات میں کمی ہوتی اورآپریشن بھی جلد مکمل ہوجاتا۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق پورے شہر میں 578 مخدوش عمارتیں ہیں جب کہ سب سے زیادہ ناقابل رہائش عمارتوں کی تعداد کراچی کے ضلع جنوبی میں 456 ہے۔ لیکن مخدوش عمارتوں کو خالی کرانے کے عملی اقدامات نہیں کیے گئے، ہر سال مون سون سیزن سے قبل مخدوش عمارتوں پر بینرز لگائے جاتے ہیں اور اس کے بعد حادثہ ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ سرکاری مشینری کی غفلت کو بھی ظاہر کرتا ہے، جو ہمارے سول اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔
چند روز قبل صوبہ خیبر پختون خوا کے سیاحتی علاقے سوات میں دریا سوات کے پانی میں سیالکوٹ سے آئے ہوئے کئی شہری بہہ گئے اور وہ ڈوب کر جاں بحق ہوگئے ، حالانکہ ان سب کی جانیں با آسانی بچائی جاسکتی تھیں لیکن مقام افسوس ہے کہ سول انتظامی ادارے حرکت میں ہی نہ آسکے اور سب لوگ پانی کی نذر ہوگئے۔
بعد ازاں جو تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آئی، اس میں سیاحوں کو ہی قصور وار ٹھہرا کر محکموں کی افسر شاہی اور خیبر پختونخوا کی حکومت نے اپنی جان چھڑا لی۔ سانحہ سوات کی المناکی یہ ہے کہ دریا میں بہنے والے لوگ سو دو سو میٹر کے فاصلے پر خاصی دیر اونچے ٹیلے پر کھڑے رہے، ٹریجڈی دیکھیں کہ وہاں کوئی لائف جیکٹس ، پلاسٹک ٹیوبز یا طویل رسی یا کیبل تک نہیں پہنچائی جاسکی یا وہاں کسی ہوٹل نے بھی ان چیزوں کا بندوبست نہیں کر رکھا تھا۔
موٹر بوٹس نہیں تھیں، سول انتظامیہ کے افسر اور ملازمین موجود ہیں، سرکاری خزانے سے تنخواہیں، مراعات اور الاونسز لے رہے ہیں لیکن جب ڈیوٹی کی باری آئی تو سب فیل ہوگئے ، انتظامیہ سے کام لینا صوبائی وزیراعلیٰ ، کابینہ اور معاونین کی بنیادی ذمے داری ہے، یہ آئین اور قانون کہتا ہے، انھیں تنخواہیں اور مراعات اسی آئینی و قانونی ڈیوٹی کے عوض ادا کی جاتی ہیں اور عام شہری اپنی کمائی سے ٹیکس دے کر یہ رقم پوری کرتے ہیں لیکن اس کے بدلے میں عوام کو کیا ملتا ہے۔
ہمارا مسئلہ یہی ہے کہ ہم سانحہ ہونے کے بعد صرف مذمتی بیانات دیتے ہیں، تعزیتی پیغامات جاری کرتے ہیں اور چند دن کی سرکاری سرگرمیوں کے بعد معاملہ سرد خانے کی نذر ہو جاتا ہے۔ حالیہ دونوں واقعات نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے ملک میں صوبائی ، ضلعی ادارے اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے ادارے مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔
ملک میں ہر سال مون سون کے موسم میں سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے، دریا بپھر جاتے ہیں، گلیاں پانی سے بھر جاتی ہیں، نالے ابل پڑتے ہیں اور نشیبی علاقے زیر آب آ جاتے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود کسی بھی سال قبل از وقت اقدامات ہوتے نظر نہیں آتے۔ متاثرہ علاقوں میں نہ تو بچاؤ کی تیاری کی جاتی ہے، نہ ہی عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسا نظام موجود ہے جس سے ممکنہ خطرے کی اطلاع دی جا سکے۔
ہمارے سرکاری ادارے غیر فعال ہو چکے ہیں۔ افسروں اور ملازمین میں نہ تو صلاحیت ہے، نہ نظم و ضبط، نہ ہی مستقبل کی پیش بینی کی صلاحیت اور تربیت ۔ سرکاری اداروں میں اقربا پروری، سیاسی مداخلت، کرپشن اور نااہلی نے اس قدر جڑیں پکڑ لی ہیں کہ بنیادی خدمات بھی فراہم کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ یہ ادارے جو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں، ان کی کارکردگی اس بات کی عکاس ہے کہ عوامی خدمت ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔
ملک کے مختلف علاقوں میں ہر سال آتشزدگی کے واقعات ہوتے ہیں، جن میں قیمتی جانیں اور املاک تباہ ہو جاتی ہیں، لیکن آج بھی بیشتر شہروں میں فائر بریگیڈ کے پاس بنیادی سامان موجود نہیں۔عملہ تربیت یافتہ نہیں، اور کئی مقامات پر تو کال موصول ہونے کے باوجود بروقت نہیں پہنچا جاتا۔ ناگہانی آفات جیسے زلزلے، بارشیں، لینڈ سلائیڈنگ یا طوفان جیسے حالات میں ہمارے پاس نہ تو پیشگی وارننگ کا نظام ہے اور نہ ہی فوری ریلیف کا مؤثر انتظام۔ ایسے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر صرف آہیں بھرنے کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
ان مسائل کے حل کے لیے محض اعلانات یا بیانات کافی نہیں۔ ہمیں اس پورے نظام کی ازسر ِنو تشکیل کرنا ہوگی۔ سب سے پہلے تو یہ ضروری ہے کہ تمام شہری اداروں کی ازسرنو تنظیم کی جائے، ان کے اختیارات اور ذمے داریوں کا واضح تعین ہو، اور ان پر کڑی نگرانی کی جائے۔ ایسے افسران اور ملازمین جو اپنی ذمے داریوں سے غفلت برتتے ہیں، انھیں صرف معطل یا تبادلے کی سزا نہ دی جائے بلکہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
عوام کے جان و مال کی حفاظت ایک قومی فرض ہے اور جو اس فرض کی ادائیگی میں ناکام ہو، اسے جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔ علاوہ ازیں، ریسکیو 1122 جیسے ادارے جنھیں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قائم کیا گیا ہے، انھیں ہر شہر، ہر ضلع اور تحصیل میں مکمل فعال کیا جائے۔ ان اداروں کو جدید آلات، گاڑیوں، اور تربیت یافتہ عملے سے لیس کیا جائے، ان اداروں کی کارکردگی کی سالانہ بنیادوں پر جانچ ہونی چاہیے تاکہ ان میں بہتری لائی جا سکے۔
کوئی شک نہیں کہ آج ہم گورننس کے بدترین فقدان کا شکار ہیں، ہمارے پاس قوانین تو بے شمار ہیں مگر عملدرآمد نظر نہیں آتا، جب ہر ادارے میں تعیناتیاں اہلیت، قابلیت اور شفافیت کے بجائے ذاتی پسند نا پسند اور چمک کی بنیادوں پر ہوں تو گورننس کیسے بہتر ہو سکتی ہے؟ ایک فلاحی ریاست جہاں گورننس کا مقصد عوام کا معاشی و سماجی تحفظ‘ قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی ہونا چاہیے تھا وہ اندھیر نگری چوپٹ راج میں بدل گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے ہاں بدامنی، قانون کی عدم حکمرانی، مہنگائی اور لوٹ مار جیسے سنگین مسائل پر قابو پانے کے لیے کوئی ٹھوس عملی اقدام نظر نہیں آتا۔
کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے انتظامات موجود نہیں، نومولود بچوں کے دودھ کی ملاوٹ سے لے کر لائف سیونگ دوائیوں کی ملاوٹ اور قلت جیسے جرائم بے باکی کے ساتھ ہورہے ہیں، سرکاری اسپتالوں میں دل کے مریضوں کو جعلی اسٹنٹس ڈالے جاتے ہیں‘ سروس ڈلیوری کے محکموں میں سائلین کی توہین و تذلیل روزمرہ کا معمول بن چکی ہے، ہر جگہ اقربا پروری، کنبہ پروری، رشوت خوری اور سفارشی کلچر کا بول بالا ہے۔ ملک میں ہر جگہ خطرناک عمارتیں، کھلے نالے، بغیر حفاظتی جنگلے کے دریا کے کنارے، اور دیگر خطرناک مقامات موجود ہیں، جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے، اگر ہم ہر سال سیکڑوں افراد کو انھی وجوہات کے باعث کھوتے رہے، تو یہ نہ صرف انسانی المیہ ہو گا بلکہ حکومتی ناکامی کا کھلا ثبوت بھی۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ محض حادثات کے بعد غم و غصے کا اظہار کرنا یا چند دن کا دکھ منانا کافی نہیں۔ جب تک ہم ان واقعات کے اسباب کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر اصلاحی اقدامات نہیں کرتے، ایسے حادثات رونما ہوتے رہیں گے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہو گا کہ ہم ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں ادارے صرف فائلوں میں موجود ہوں یا ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جو ہر شہری کو تحفظ فراہم کرے، ان کی جان، مال، عزت اور وقار کا محافظ ہو۔ وقت آ چکا ہے کہ ہم اس سوال کا سنجیدہ جواب تلاش کریں اور اپنے اداروں کو جگائیں، وگرنہ ہر سال کے حادثات صرف چند نام، چند آنسو اور چند تعزیتی بیانات چھوڑ جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور ملازمین اداروں کی جاتے ہیں ہیں اور کیا گیا کے بعد ہر سال کے لیے نہیں ا لیکن ا
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔