کبھی لگتا ہے کہ سب اچھا ہے لیکن چیزیں آپ کے حق میں نہیں ہوتیں، بابر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے بلے باز بابر اعظم کا کہنا ہے کہ کبھی ایسا لگتا ہے کہ سب اچھا چل رہا ہے لیکن کچھ چیزیں آپ کے حق میں نہیں ہوتیں۔
جنوبی افریقا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں فتح کے بعد کپتان سلمان علی آغا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے اپنی حالیہ کارکردگی پر اظہار خیال کیا۔
بابر اعظم نے کہا کہ ابتداء میں 40 رنز تک محتاط انداز میں کھیلنے کا پلان بنایا تھا۔ بیچ میں اسپنرز کو کھیلنا مشکل ہورہا تھا تو پلان کیا کہ ان کو محتاط انداز میں کھیلیں، اگر گیند رینج میں آئی تو ہٹ لگائیں گے، جو کہ پھر آگئی۔
سلمان آغا نے بابر اعظم سے کہا کہ ٹیم اور قوم آپ کی اس کارکردگی پر بہت خوش ہے کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ آپ رنز بناتے جائیں گے تو ہم کوئی بھی ایونٹ جیت سکتے ہیں۔
بابر اعظم نے اپنی حالیہ ناقص فارم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں اور ٹیم کی توقعات پر پورا نہیں اتر پارہا تھا لیکن میں مثبت رہا اور محنت جاری رکھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کبھی کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جس میں لگتا ہے کہ سب اچھا ہے لیکن چیزیں آپ کے حق میں نہیں ہوتیں لیکن الحمداللہ، اللہ نے آج کرم کیا۔
Post-match chat with skipper @SalmanAliAgha1 and @babarazam258 ????️
Breaking down the series-clinching win in Lahore and the incredible support from fans ????????#PAKvSA | #GreenPeYaqeen | #BackTheBoysInGreen pic.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لگتا ہے کہ
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔