Daily Ausaf:
2026-06-03@08:22:05 GMT

قرضوں کے شکنجے میں جکڑی قوم

اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT

کسی بھی قوم کی معیشت کی بنیاد استحکام، خود انحصاری اور مالی نظم و ضبط پر رکھی جاتی ہے ،لیکن جب کو ئی ریاست اپنے اصل فرائض کو بھول کر اللوں تللوں میں لگ جاتی ہے تو ریاست کاخزانہ قرضوں میں جکڑ جاتا ہے ۔بجٹ قرضوں کے سود کی ادائیگیوں کے بوجھ تلے دبتا چلا جاتا ہے ،یوں ہر آنے والی حکومت قرضوں کا ملبہ سابقہ حکومت پر ڈال دیتی ہے اور اس کاحل مزید قرضے لینے کی صورت میں نکالا جاتا ہے اسی حشر سامانی کے پیش نظر ہماری معیشت فقط عددی کھیل کا روپ دھار چکی ہے ،اشرافیہ کو اپنے سوا کسی کی فکر نہیں ،قومی معیشت کی کشتی بھنور میں ہے ،ملک نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے ۔ایک نظریاتی مملکت کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرے والے اسلامی ملک کا رواں رواں 77 برس میں سود کے بد مست ہاتھی کے پائوں تلے روندا جا رہا ہے ۔ہر اٹھایا جانے والا قرضہ ترقی کا زینہ بننے کی بجائے قوم کے بچے بچے کے گلے کا طوق بنتا جارہا ہے ۔کسی کو کچھ خبر نہیں کہ حاصل کئے جانے والے قرضے کن مدوں پر خرچ کئے جاتے ہیں ،ان کے مصارف کیا ہیں ۔
اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 2025ء سال رواں کے مئی تک کے جاری کردہ اعداد و شمار نہ صرف تشویش ناک ہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے لئے مالی غلامی کی طرف دھکیلنے کا شاخسانہ بن رہے ہیں ۔وفاقی حکومت کے مجموعی قرضے 76،045 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں ۔جبکہ مقامی قرضوں کا بوجھ 53 اعشاریہ 460 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے ۔جو حکومت نے اندرون ملک بنکوں اور تجارتی مالیاتی اداروں اور اسٹیٹ بنک سے حاصل کئے ۔ عالمی مالیاتی اداروں ،بانڈز اور دو طرفہ قرضوں کا بوجھ 22 اعشاریہ 585 ارب روپے ہے۔اس میں سالانہ اضافہ 8 اعشاریہ 312 ارب روپے ہوتا ہے ۔ مالی سال 2024 اور 2025کے ابتدائی گیارہ ماہ میں 7131 ارب روپے قرضہ لیاگیا ،انتہا کا غضب یہ ہے کہ صرف مئی 2025 ء کے ایک مہینے میں 1109 روپے قرضہ لیا گیا یعنی تقریبا ً36 ارب روپے روزانہ کی اوسط سے ۔ان قرضوں کے لئے جانے کے پیچھے جو عوامل کارفرما ہیں وہ یہ ہیں کہ بجٹ خسارے کی بابت ہر سال آمدن اور خرچ میں ہوش ربا تفاوت ہے جو ان قرضوں ہی سے پورا کیا جاتا ہے۔اس پر ظلم یہ کہ وفاقی بجٹ کا تقریبا ً50 فیصد قرضوں کے سود کی ادائیگی کی مد میں ادا کیا جاتا ہے ۔
اس پر مستزاد یہ کہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ بیرونی قرضوں کو نا گزیر بناتا ہے ۔اس پر دردناک المیہ یہ کہ ٹیکس جی ڈی پی کی شرح 10 سے 11 فیصد کے درمیان چکراتا رہتا ہے جو دنیا کی کم ترین سطح پر شمار ہوتاہے۔غرض ان ناں سٹاپ قرضوں کے نتائج یہ رونما ہوتے ہیں کہ سودکا بوجھ فزوں تر ہوجاتا ہے ۔جس کی وجہ سے پبلک سیکٹرڈیویلپمنٹ پروگرام مسلسل تہہ و بالا ہوتا رہتا ہے اس سے سب سے زیادہ اثر صحت ،تعلیم اور انفراسٹرکچر پر پڑتا ہے اور معاشی خود مختاری کے سارے خواب بکھر جاتے ہیں ۔کرنسی کی ویلیو گر جاتی ہے جس کی وجہ سے مہنگائی آسمان کو چھونے لگتی ہے عام آدمی کا جینا حرام ہونے کے ساتھ متوسط طبقہ غربت و افلاس کی زد میں آتا چلا جاتا ہے ۔مختصر یہ کہ جب تک اخراجات میں کفایت شعاری نہیں برتی جاتی،وزیروں ،مشیروں اور اسٹیبلشمنٹ کی عیاشیوں اور فضول خرچیوں پر پابندی عائد نہیں کی جاتی ۔ملکی ترقی اور معیشت کے سنبھلنے کا سوچنا بھی کار ادق ہے اور قوم کے قرضوں کے شکنجے میں جکڑیوجود کو کسی طور نجات نہیں مل سکتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ارب روپے قرضوں کے جاتا ہے

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی شبیہ کو بچانے کیلئے سونے کے ذخائر فروخت کئے جارہے ہیں، ملکارجن کھڑگے
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان