لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 جولائی2025ء) پی ڈی ایم، نگران اور شہباز شریف حکومت نے ملکی قرضوں میں 34 ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ کر دیا، عمران خان حکومت کے خاتمے کے بعد 3 سالوں میں ملکی قرضوں کا حجم 42 ہزار ارب سے بڑھ کر 76 ہزار ارب روپے کی سطح سے اوپر چلا گیا، شہباز شریف حکومت نے  صرف ایک سال میں ملکی قرضوں میں 8 ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ کر دیا، عمران خان حکومت کے ختم ہونے کے بعد 3 سالوں میں ملکی قرضوں میں اضافے کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، معاشی بہتری کی دعویدار حکومت قرضوں کے حجم میں اضافے کو نہ روک سکی۔

 تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کے قرضے ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، وفاقی حکومت کے قرضے ریکارڈ 76 ہزار 45 ارب روپے ہوگئے، اسٹیٹ بینک نے مئی 2025 تک کے وفاقی حکومت کے قرضوں کا ڈیٹا جاری کردیا۔

(جاری ہے)

اعدادوشمارکے مطابق اسٹیٹ بینک نے مئی 2025 تک وفاقی حکومت کے قرض سے متعلق اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، دستاویز کے مطابق حکومت کا مقامی قرضہ 53 ہزار 460 ارب روپے ہوگیا، وفاقی حکومت کا بیرونی قرضہ مئی 2025 تک 22 ہزار 585 ارب روپے رہا۔

دستاویز کے مطابق ایک سال میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں 8 ہزار 312 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔دستیاب دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال 25-2024 کے پہلے 11 ماہ میں وفاقی حکومت کا قرضہ 7 ہزار 131 ارب روپے بڑھا، مئی کے ایک مہینے میں مرکزی حکومت کے قرضے میں 1109 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔دستاویز کے مطابق جون 2024 سے مئی 2025 کے 11 ماہ میں وفاقی حکومت کا قرضہ 8 ہزار 312 ارب روپے بڑھا، مئی 2025 تک وفاقی حکومت کے قرضوں کا مجموعی حجم 76 ہزار 45 ارب روپے رہا۔اپریل 2025 تک وفاقی حکومت کے قرضے 74 ہزار 936 ارب روپے تھے، جون 2024 تک مرکزی حکومت کے قرضوں کا حجم 68 ہزار 914 ارب روپے تھا، مئی 2024 تک وفاقی حکومت کے قرضے 67 ہزار 733 ارب روپے تھے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وفاقی حکومت کے قرضے تک وفاقی حکومت کے دستاویز کے مطابق حکومت کے قرضوں ملکی قرضوں میں ہزار ارب روپے مئی 2025 تک حکومت کا کا اضافہ قرضوں کا

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف