اسرائیلی جارحیت میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 57 ہزار سے متجاوز، عالمی ادارےخاموش
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ: اسرائیل کے غزہ پر جاری مظالم اور نسل کشی کی جنگ میں شہید فلسطینیوں کی تعداد57 ہزار 523 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 136,617 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق فلسطین کی وزارتِ صحت کاکہنا ہےکہ تازہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 105 فلسطینی شہید اور 356 زخمی ہوئے۔
وزارتِ صحت کے مطابق متعدد شہداء کی لاشیں اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر پڑی ہیں، جن تک امدادی کارکنوں کی رسائی ممکن نہیں ہو پا رہی کیونکہ اسرائیلی بمباری مسلسل جاری ہے اور ریسکیو ٹیموں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے 18 مارچ کو جنگ بندی معاہدے اور قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کو توڑتے ہوئے غزہ پر ایک بار پھر حملے شروع کر دیے تھے، جس کے بعد سے اب تک 6,964 مزید فلسطینی شہید اور 24,576 زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیل پر عالمی سطح پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، گزشتہ نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے تحت گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
اسی طرح اسرائیل کے خلاف غزہ میں نسل کشی کے مقدمے کی سماعت عالمی عدالت انصاف (ICJ) میں بھی جاری ہے، جس میں اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں اور فلسطینیوں کے اجتماعی قتل عام کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اور بین الاقوامی میڈیا مسلسل اس جنگ کو “نسل کشی” اور “انسانی بحران” قرار دے رہے ہیں، عالمی برادری کی جانب سے عملی اقدامات کی کمی پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
غزہ میں صورتحال بدترین انسانی المیے میں تبدیل ہو چکی ہے، صحت کے مراکز، اسپتال، پناہ گاہیں اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر تباہ کیے جا چکے ہیں جب کہ خوراک، پانی، اور ادویات کی شدید قلت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔