اقوام متحدہ کی لبنان میں یونیفل کی ٹیم پر اسرائیلی حملے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
ایک نیوز کانفرنس میں اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ ہمیں اتوار کو پیش آنے والے اس واقعے پر گہری تشویش ہے۔ حملے میں ایک اسرائیلی ڈرون نے یونیفیل کے گشت کے قریب ایک دستی بم گرایا اور بعد میں ایک اسرائیلی ٹینک نے کفر کِیلا میں یونیفیل کے علاقے کے اندر امن فوج پر گولہ داغا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ نے لبنان میں اقوام متحدہ امن فوج "یونیفیل" کی گشتی ٹیم کو نشانہ بنا کر کئے گئے حالیہ اسرائیلی حملوں کی مذّمت کی ہے۔ پیر کے روز ایک نیوز کانفرنس میں اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ ہمیں اتوار کو پیش آنے والے اس واقعے پر گہری تشویش ہے۔ حملے میں ایک اسرائیلی ڈرون نے یونیفیل کے گشت کے قریب ایک دستی بم گرایا اور بعد میں ایک اسرائیلی ٹینک نے کفر کِیلا میں یونیفیل کے علاقے کے اندر امن فوج پر گولہ داغا ہے۔ دوجارک نے کہا ہے کہ واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اورہماری امن فوج اور اثاثوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اس واقعے سے پہلے اسی علاقے میں ایک اسرائیلی ڈرون نے یونیفل کی گشتی ٹیم پر جارحانہ پرواز کی تھی اور یونیفیل کے امن فوجیوں نے ڈرون کو ناکارہ بنانے کے لیے دفاعی اقدامات کیے تھے۔ دوجارک نے زور دیا ہے کہ امن فوجیوں کی سلامتی اور حفاظت کو خطرے میں ڈالنے والے تمام اقدامات مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں اور انہیں فوری طور پر بند ہو جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ یونیفیل 1978ء سے جنوبی لبنان میں کام کر رہی ہے اور 2006ء میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1701 کے تحت اس کی نفری میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں ایک اسرائیلی اقوام متحدہ کہا ہے کہ امن فوج
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔