قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی اطلاعات اور وزارت اطلاعات آمنے سامنے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔03 جولائی ۔2025 )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات اور وزارت اطلاعات کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے، جس کے نتیجے میں چیئرمین کمیٹی پولین بلوچ نے وزارت کے رویے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اجلاس برخاست کر دیا. پولین بلوچ کی صدارت میں ہونے والا قائمہ کمیٹی اجلاس اس وقت ہنگامہ خیز صورت اختیار کر گیا جب اراکین نے شکایت کی کہ اجلاس کا ایجنڈا تاخیر سے بھیجا گیا اور بریفنگ بھی فراہم نہیں کی گئی اراکین کمیٹی نے متفقہ طور پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں بلکہ مسلسل شکایات کے باوجود وزارت کی جانب سے سنجیدگی نہیں دکھائی جا رہی.
(جاری ہے)
سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ پی ٹی وی میں ہونے والی بھرتیوں اور تنخواہوں کی تفصیلات مانگی گئیں، لیکن وزارت نے فراہم نہیں کیں انہوں نے کہا کہ ہم نے پوچھا کتنی بھرتیاں ہوئیں اور کن تنخواہوں پر لیکن جواب ندارد سحر کامران نے کہا کہ پی ٹی وی کی حالت اب شالیمار ریکارڈنگ کمپنی سے بھی زیادہ خراب ہو چکی ہے کہا گیا تھا کہ عید سے پہلے تنخواہیں دے دی جائیں گی لیکن وہ بھی نہیں دی گئیں. چیئرمین کمیٹی پولین بلوچ نے کہا کہ ہم وزارت سے ایٹمی فارمولہ نہیں مانگ رہے، صرف تنخواہوں کے اعداد و شمار مانگے تھے، لیکن وہ بھی چھپائے جا رہے ہیں ہم 19 تاریخ کو یہ تفصیلات مانگ چکے ہیں مگر وزارت تعاون نہیں کر رہی انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیر اعظم سے رجوع کرنا پڑا تو میں ضرور جاﺅں گا کیونکہ یہ پارلیمنٹ کے وقار کا سوال ہے ہم صرف اتنا جاننا چاہتے ہیں کہ سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کے ملازمین کو تنخواہیں کیوں نہیں دی جا رہیں. رکن کمیٹی امین الحق نے کہا کہ یہ معاملہ صرف یہاں تک نہیں رہنا چاہئے، اس کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے تمام اراکین نے چیئرمین کمیٹی پولین بلوچ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا جس پر انہوں نے اجلاس فوری طور پر ختم کرتے ہوئے کہاکہ میں اس میٹنگ کی صدارت نہیں کر سکتا کیونکہ وزارت ہماری بات ہی نہیں سن رہی میں اسپیکر کے پاس جا رہا ہوں اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پولین بلوچ نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کے وقار کو بلند کرنا چاہتے ہیں، وزارت کا رویہ ناقابل قبول ہے، اس پر اعلی سطح پر بات کی جائے گی.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پولین بلوچ کرتے ہوئے نے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔