چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس ، سیکٹرز ڈویلپمنٹ کے کام کو مزید تیز کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس ، سیکٹرز ڈویلپمنٹ کے کام کو مزید تیز کرنے کی ہدایت WhatsAppFacebookTwitter 0 7 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر اسلام آباد اور ڈی جی سول ڈیفنس محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی ڈی اے کے ممبر ایڈمن، ممبر اسٹیٹ، ممبر انجینئرنگ، ممبر فنانس، ممبرانوائرمنٹ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، ڈپٹی کمشنر سی ڈی اے اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکٹرڈویلپمنٹ پر اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیاگیا۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سیکٹرز ڈویلپمنٹ کے کام کو نہ صرف مزید تیز کیا جائے بلکہ معیار اورکوالٹی پر بھی کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ جن سیکٹرز میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں وہاں پر سی ڈی اے کے متعلقہ ڈائریکٹوریٹس خصوصا ڈی سی سی ڈی اے اپنے متعلقہ عملہ کے ہمراہ دفترقائم کریں تاکہ لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے میں مدد مل سکے اس کے علاوہ کیمپ آفیسز میں عوام کے تمام مسائل کو شفافیت، قانون و انصاف کے تمام تقاضوں کے مطابق حل کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ سیکٹرایچ سولہ، سی پندرہ، سی سولہ، ای بارہ اور ایف تیرہ سیکٹرز سے ناجائز تجاوزات کو نہ صرف ختم کیا جائے بلکہ قانون کے مطابق جن لوگوں کے لینڈ اور بلٹ اپ پراپرٹیز کے کلیم ہیں وہ فوری طور پر قانون کے مطابق اپنے کلیم موقع پر موجود ڈی سی سی ڈی اے یا ان کے متعلقہ عملہ کو جمع کریں اس کے علاوہ اسلام آباد انتظامیہ کے افراد بھی موجود ہونگے۔عوام کے کلیم کا قانون کی روشنی میں جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ سی ڈی اے نے جہاں عوام کو قانون کے مطابق متعلقہ سیکٹرزکے افراد کو ان کا حق دینے کا فیصلہ کیا ہے وہاں سی ڈی اے نے ترقیاتی کاموں کے لیے بھی مناسب منصوبہ بندی کی ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے نے پارک انکلیواور دیگر سیکٹرز میں بھی ترقیاتی کاموں کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔انھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں جہاں ترقیاتی کاموں میں بہتری لائی جا رہی ہے وہاں غیر قانونی تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف بھی بلاتفریق کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ نئے سیکٹرز کے ترقیاتی کاموں میں حائل تمام رکاوٹوں کو ترجیح بنیادوں پر دور کیا جائے اور فنانس ونگ ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈز کی مناسب فراہمی کو یقینی بنائے۔ چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ سی ڈی اے اسلام آباد کی تعمیر وترقی، خوشحالی، خوبصورتی اور اسکو ملک کا ایک مثالی شہر بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی رہائشی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے مختلف سیکٹرز کی ڈیولپمنٹ پر تیزی سے کام جاری ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈی جی پی ایچ اے احمد حسن رانجھا کا صدر مال روڈ جی پی او چوک راولپنڈی کا خصوصی دورہ، بیوٹیفیکیشن کے حوالے سے جاری کام کا جائزہ لیا ڈی جی پی ایچ اے احمد حسن رانجھا کا صدر مال روڈ جی پی او چوک راولپنڈی کا خصوصی دورہ، بیوٹیفیکیشن کے حوالے سے... حکومت کا ملک بھر میں پنکھوں کو کم بجلی سے چلنے والوں پنکھوں سے تبدیل کرنیکا فیصلہ وفاقی حکومت کا رواں مالی سال بھی کفایت شعاری کے اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ سینیٹ میں خیبرپختونخوا کی نشستوں کیلئے امیدواروں کی فہرست جاری پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز کا مخصوص نشستوں کے حصول کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا سلسلہ جاری، سویڈن کا اسلام آباد میں ویزا سروسز دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: محمد علی رندھاوا چیئرمین سی ڈی اے کرنے کی
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔