کراچی:

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کے ایم سی کی پارکنگ سائٹس کو یکم جولائی سے مفت کرنے کا اعلان کیا ہے، یہ 32 پارکنگ کہاں کہاں ہیں ان کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق میئر کراچی کے اس اعلان کا مقصد شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ یہ فیصلہ یکم جولائی سے نافذ العمل ہوگیا ہے جس کے تحت مفت چارجڈ پارکنگ درج ذیل مقامات پر لاگو ہوگی۔

ضلع شرقی میں فاریہ موبائل، رضا موبائل، راشد منہاس روڈ (الغفور سے فردوس شاپنگ مال تک)، کے ڈی اے مارکیٹ (گلشن فلائی اوور سے ڈسکو بیکری، علامہ شبیر احمد عثمانی روڈ تک)، چیس ویلیو سینٹر، الہ دین پارک کے سامنے، راشد منہاس روڈ (سروس روڈ)، مشرق سینٹر سے کریم پلازا، سر شاہ سلیمان روڈ، این آئی بی ڈی اسپتال سے یونائیٹڈ کنگ بیکری، سر شاہ سلیمان روڈ سروس روڈ، شارع فیصل (کارساز فلائی اوور سے قائدین فلائی اوور تک اور واپسی)، الخلیج ٹاور سے کباب جی تک (سروس روڈ، شہید ملت روڈ)، ہارڈیز سے چیس اپ جیل چورنگی، شہید ملت روڈ، سِوک سینٹر یونیورسٹی روڈ اور سر شاہ سلیمان روڈ (گیٹ سے ڈی ایم سی ایسٹ آفس تک)، امتیاز اسٹور، گلشن اقبال، راشد منہاس روڈ، گلشن ویو موبائل مارکیٹ، ابوالحسن اصفہانی روڈ، ہوم پلس، ریڈ ایپل سے مسکن چورنگی تک (دونوں طرف، شبیر احمد عثمانی روڈ)، روفی شاپنگ مال کے سامنے، مین یونیورسٹی روڈ، چیس پلس صفورا کے سامنے، مین یونیورسٹی روڈ، عثمانیہ اسپتال کے سامنے، جیل روڈ، ضلع وسطی میں سرینا موبائل مارکیٹ اور ہارون شاپنگ مال، لیاقت آباد سپر مارکیٹ سے لیاقت آباد نمبر 10، ایس ایم توفیق روڈ، چیس سپر اسٹور، شاہراہ پاکستان، فیڈرل بی ایریا، سینٹرم شاپنگ مال، راشد منہاس روڈ، کفایہ اومیگا مال، نارتھ کراچی۔

ضلع جنوبی میں جیلانی سینٹر موبائل مارکیٹ کے سامنے، ایم اے جناح روڈ، ناز پلازا سے اماں ٹاور تک، ایم اے جناح روڈ، ایم اے جناح روڈ (کوثر میڈیکو سے سول سگنل، لائٹ ہاؤس سگنل سے ایم ڈبلیو ٹاور)، ضلع کورنگی / ملیر میں رضا موبائل مارکیٹ سے نادرا آفس، مین نیشنل ہائی وے، ملیر،امان ٹاور کے سامنے، مین کورنگی روڈ کراسنگ، جہانگیر پیٹرول پمپ، کوئٹہ نمکین، رفیق مارکیٹ (چمن پلازا) کے سامنے، موبائل مارکیٹ نمبر 4 کے سامنے، مین کورنگی روڈ، ماڈل پارک کورنگی نمبر 3½، کٹ پرائس شاپ سے سندھ گورنمنٹ اسپتال تک، مین کورنگی روڈ، چیس ویلیو کے سامنے، شان چورنگی، کورنگی مہران ہائی وے، ضلع غربی / کیماڑی میں کے پی ٹی گیٹ نمبر 01، کیماڑی، شیل پیٹرول پمپ کے قریب، ایم اے جناح روڈ، شارجہ شاپنگ مال سے کوہ نور میرج ہال، حب ریور روڈ، چارجڈ پارکنگ سائٹس (چار دیواری یا کور شدہ مقامات کے اندر) درج بالا 32 مقامات پر کے ایم سی کی پارکنگ مفت ہوگی۔

تاہم مندرجہ ذیل مخصوص مقامات جو کہ کے ایم سی کی ملکیت ہیں اور چار دیواری یا کور شدہ علاقوں میں واقع ہیں، ان پر پرانی پالیسی کے مطابق پارکنگ چارجز لاگو ہوں گے۔

ضلع شرقی میں سندباد گلشن اقبال (چار دیواری کے اندر)، ضلع وسطی اے او کلینک پارکنگ، ناظم آباد (چار دیواری کے اندر)، حیدری مارکیٹ پارکنگ اور سنڈے موٹر سائیکل بازار (چار دیواری کے اندر)، ناظم آباد ڈرائیونگ لائسنس برانچ کے سامنے (چار دیواری کے اندر)، ضلع جنوبی کلفٹن سینٹر (کور شدہ علاقہ)، سسی آرکیڈ، کلفٹن (کور شدہ علاقہ)،پیراڈائز سینٹر، کلفٹن (کور شدہ علاقہ)، پولو گراؤنڈ، ڈاکٹر ضیاء الدین احمد روڈ (کور شدہ علاقہ) کرسٹل کورٹ، کلفٹن (کور شدہ علاقہ)، بیچ ویو پارکنگ کے درمیان پلاٹ، کلفٹن (کور شدہ علاقہ)، ہائپر اسٹار بیچ ویو پارکنگ، کلفٹن (کور شدہ علاقہ)شامل ہیں۔

شہریوں کی سہولت اور قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ڈائریکٹر سٹی وارڈن کے ایم سی کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ ان مقامات پر وارڈنز تعینات کیے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چار دیواری کے اندر ایم اے جناح روڈ راشد منہاس روڈ موبائل مارکیٹ کور شدہ علاقہ شاپنگ مال کے ایم سی کے سامنے

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں