لاہور میں کم عمر ڈرائیور کی گاڑی کے حادثے میں زخمی 3 افراد میں سے ایک دم توڑ گیا، واقعہ کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ لڑکے کے زیر استعمال گاڑی اس کے باپ کی نہیں بلکہ مالک مکان کی ہے، حادثے کی سی سی ٹی وی بھی منظرعام پر آ گئی۔

ٹریفک حادثہ شاہدرہ ٹاؤن میں مین روڈ پر سنگیت سینما کے قریب رات ساڑھے 10 بجے پیش آیا، سی سی ٹی وی میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیاہ رنگ کی تیز رفتار گاڑی دو موٹر سائیکلوں کو ہِٹ کرتی ہے، حادثے میں ایک نوجوان ہلاک اور دو زخمی ہو گئے، گاڑی رُکنے پر لوگوں نے 13 سالہ ڈرائیور کی دُرگت بنائی اور پولیس کے حوالے کر دیا۔

کم عمر ڈرائیور کی شناخت حاشر کے نام سے ہوئی، پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی۔

ایس پی سٹی بلال احمد کے مطابق ملزم حاشر کے والدین میں علیحدگی ہوچکی ہے اور وہ اپنی نانی کے پاس رہائش پذیر ہے، ملزم اپنے مالک مکان خرم کو بتائے بغیر اس کی گاڑی لے گیا تھا۔

خرم نامی مالک مکان میڈیسن کمپنی میں منیجر ہے اور گاڑی کمپنی کی ہے۔

 پولیس کے مطابق خرم نے حادثے کے بعد گاڑی چوری کی کال چلائی، اُسے بھی شامل تفتیش کیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد