Jasarat News:
2026-06-02@23:19:22 GMT

گاڑی کی بیک ونڈو کی ان لکیروں کا کیا مقصد ہوتا ہے

اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT

گاڑی کی بیک ونڈو کی ان لکیروں کا کیا مقصد ہوتا ہے

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ گاڑی کے پچھلے شیشے (رئیر ونڈ شیلڈ) پر باریک باریک لکیریں کیوں بنی ہوتی ہیں؟ یہ صرف سجاوٹ کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ ایک نہایت کارآمد اور تکنیکی مقصد کے تحت لگائی جاتی ہیں۔

یہ باریک لکیریں درحقیقت ڈی فروسٹر یا ڈی فوگر لائنز کہلاتی ہیں جو سردیوں میں شیشے پر جمنے والی دھند یا برف کو پگھلانے میں مدد دیتی ہیں۔ ان لائنز میں بجلی دوڑتی ہے جو گرمائش پیدا کرتی ہے، جس سے شیشہ صاف رہتا ہے اور ڈرائیور کو پیچھے کا منظر واضح دکھائی دیتا ہے۔

یہ لائنز گرمیوں میں بھی کام آتی ہیں، خاص طور پر جب ہوا میں نمی زیادہ ہو اور شیشہ اندر سے دھندلا جائے ایسے میں یہ نمی کو خشک کرکے شیشے کو صاف رکھتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لکیریں خاص قسم کی دھاتی تاریں ہوتی ہیں جو شیشے پر لگی ہوتی ہیں۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ فرنٹ ونڈ شیلڈ پر یہ لائنز کیوں نہیں ہوتیں؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر سامنے کے شیشے پر یہ تاریں لگائی جائیں تو وہ ڈرائیور کے ویژن میں رکاوٹ بن سکتی ہیں اور حادثے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے، اس لیے صرف پچھلے شیشے پر ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار