گاڑی کی بیک ونڈو کی ان لکیروں کا کیا مقصد ہوتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ گاڑی کے پچھلے شیشے (رئیر ونڈ شیلڈ) پر باریک باریک لکیریں کیوں بنی ہوتی ہیں؟ یہ صرف سجاوٹ کے لیے نہیں ہوتیں بلکہ ایک نہایت کارآمد اور تکنیکی مقصد کے تحت لگائی جاتی ہیں۔
یہ باریک لکیریں درحقیقت ڈی فروسٹر یا ڈی فوگر لائنز کہلاتی ہیں جو سردیوں میں شیشے پر جمنے والی دھند یا برف کو پگھلانے میں مدد دیتی ہیں۔ ان لائنز میں بجلی دوڑتی ہے جو گرمائش پیدا کرتی ہے، جس سے شیشہ صاف رہتا ہے اور ڈرائیور کو پیچھے کا منظر واضح دکھائی دیتا ہے۔
یہ لائنز گرمیوں میں بھی کام آتی ہیں، خاص طور پر جب ہوا میں نمی زیادہ ہو اور شیشہ اندر سے دھندلا جائے ایسے میں یہ نمی کو خشک کرکے شیشے کو صاف رکھتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لکیریں خاص قسم کی دھاتی تاریں ہوتی ہیں جو شیشے پر لگی ہوتی ہیں۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ فرنٹ ونڈ شیلڈ پر یہ لائنز کیوں نہیں ہوتیں؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر سامنے کے شیشے پر یہ تاریں لگائی جائیں تو وہ ڈرائیور کے ویژن میں رکاوٹ بن سکتی ہیں اور حادثے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے، اس لیے صرف پچھلے شیشے پر ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔