گوگل نے جی میل اینڈرائیڈ ایپ میں نیا فیچر اور ڈیزائن اپ ڈیٹس متعارف کرا دیے ہیں۔

تازہ اپ ڈیٹ کے تحت جی میل صارفین اب نوٹیفکیشن بار سے براہِ راست مارک ایز ریڈ کا آپشن استعمال کرسکیں گے۔ یہ فیچر جون کے آخر سے بتدریج جاری کیا جا رہا تھا اور اب اس کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جی میل میں اب لمبی ای میلز پڑھنا نہایت آسان، مگر کیسے؟

 تازہ ورژن میں یہ آپشن ڈلیٹ یا آرکائیو اور ریپلائی کے درمیان نمایاں انداز میں نظر آئے گا، جس سے صارفین کے لیے ای میل مینجمنٹ میں سہولت بڑھے گی۔

دوسری جانب جی میل میں میٹیریل 3 ایکسپریسیو (M3E) ڈیزائن بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ اس میں سرچ ایپ بار، نئے کنٹینرز اور ان باکس میں اینیمیشنز شامل ہیں۔

 تازہ تبدیلیوں کے تحت ہیمبرگر بٹن اور پروفائل سوئچر کو براؤزر سے باہر منتقل کرنے کا تجربہ بھی شامل ہے، تاکہ سرچ ویو کے لیے واضح انٹری پوائنٹ فراہم کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل نے جی میل اور دیگر سروسز کے لیے اے آئی ماڈل متعارف کروا دیا

یہ اپ ڈیٹس گوگل کی دیگر ایپس جیسے گوگل کیپ میں بھی متعارف کرائی جارہی ہیں۔ تاہم جی میل میں M3 ایکسپریسیو ڈیزائن کی وسیع سطح پر دستیابی ابھی کچھ وقت لے سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اینڈرائیڈ ایپ اینیمیشنز جی میل گوگل مارک ایز ریڑ ہیمبرگر بٹن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اینڈرائیڈ ایپ اینیمیشنز جی میل گوگل ہیمبرگر بٹن جی میل میں کے لیے

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری