ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اپنی بلا تعطل ٹرانزٹ روٹس تک رسائی کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

انسٹاگرام پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے بتایا کہ انہوں نے آرمینیا کے نائب وزیر خارجہ اور روسی وزارت خارجہ کے قفقاز امور کے خصوصی ایلچی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی کرنسی سے 4 صفر ختم کرنے کی منظوری

انہوں نے کہا کہ ان ملاقاتوں میں بین الاقوامی امور پر بات ہوئی، خاص طور پر قفقاز خطے کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے کے ہمسایہ ممالک کے درمیان امن و استحکام کے قیام کی حمایت کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی خطے کے جیوپولیٹیکل استحکام اور قومی مفادات کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، اور کسی بھی ایسے منصوبے یا پروجیکٹ پر خاص حساسیت دکھائے گا جو ہمارے ملک کی روٹس تک رسائی یا مفادات کے حصول کو محدود کرے۔

اپنے آرمینی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں عراقچی نے ایک امریکی ثالثی معاہدے پر ردعمل دیا، جس کے تحت آذربائیجان اور نخجوان کو جوڑنے والا ایک راہداری قائم کی جائے گی اور جنوبی آرمینیا میں اس روٹ کے لیے امریکا کو 99 سال کا ترقیاتی لیز دیا جائے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان امن معاہدے کے نتیجے میں بننے والی نئی ٹرانسپورٹ راہداری ایران کی دیگر ٹرانزٹ روٹس تک رسائی کو کسی صورت محدود نہیں کرنی چاہیے۔

عراقچی نے اپنے آرمینی ہم منصب سے کہا کہ کسی بھی راہداری کے قیام کا معاہدہ یا منصوبہ خطے کے ممالک میں استحکام اور سلامتی کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: روٹس تک رسائی عراقچی نے انہوں نے

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور مکانات کی مسماری پر میرواعظ عمر فاروق کا شدید رنج
  • اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، پاک۔ایران دیرینہ تعلقات کا اعادہ
  • ایشین گیمز کرکٹ : پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو براہِ راست کوارٹر فائنل میں رسائی مل گئی
  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران