Islam Times:
2026-06-03@08:31:50 GMT

کھودا پہاڑ نکلا چوہا

اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT

کھودا پہاڑ نکلا چوہا

اسلام ٹائمز: اس سوال کا جواب "کیا الاسکا ملاقات بنیادی تبدیلی لا سکتی ہے؟" اب واضح ہے، بالکل نہیں۔ ان مذاکرات کا تجزیہ معاہدے کے انعقاد کے راستے کے طور پر نہیں بلکہ دنیا کی جغرافیائی سیاسی شگافوں کے آئینہ کے طور پر کیا جانا چاہیئے۔ لہٰذا، الاسکا جیسی ملاقاتوں کی اہمیت یہ نہیں ہے کہ وہ کسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے بلکہ یہ ہے کہ وہ عالمی نظام کے تاریخی دور میں کس پوزیشن کو ظاہر کرتے ہیں۔ کیا دنیا جدید نظم یعنی ورلڈ آرڈر کی نئی تعریف کی طرف بڑھ رہی ہے، یا کشیدگی کے دھماکے کے دہانے پر ہے؟ تحریر: حامد حاجی حیدری

عین اس وقت جب ولادیمیر پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویریں بن رہی تھیں۔ عین اس وقت لڑاکا طیارے الاسکا کے اوپر پرواز کر رہے تھے۔ جیٹ طیاروں کی گونج میں دونوں صدور سرخ قالین پر چل رہے تھے۔ عالمی سیاست کی تاریخ نے بارہا دکھایا ہے کہ لیڈروں کے درمیان ڈرامائی بات چیت شاذ و نادر ہی ٹھوس نتائج برآمد کرتی ہے۔ الاسکا مذاکرات کی حالیہ ناکامی اس دیرینہ روایت کی ایک اور تصدیق ہے۔ ماضی میں، صلاح الدین اور رچرڈ اول (1192) کی ایکڑ میں ملاقات، ظاہری شائستہ ظہور کے باوجود، نہ صرف جنگ کو روک نہیں سکی، بلکہ تناؤ کو مزید بڑھا دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آخری امن رام اللہ کے معاہدے میں نچلے درجے کے نمائندوں کے ذریعے طے پایا تھا۔
جدید دور میں بھی، لیڈروں کی چمکیلی ملاقاتیں اکثر بے نتیجہ رہی ہیں۔ نپولین اور زار الیگزینڈر اول کی تلسیت (1807) میں ملاقات سے صرف دو سال کا عارضی امن قائم ہوا، جس کے بعد خونریز جنگیں بھڑک اٹھیں۔ یہاں تک کہ ویانا کی کانگریس (1815)، جس نے نپولین کے بعد ایک نیا حکم قائم کیا، تین دہائیوں کی جنگ کے نتیجے میں  بے مقصد رہی۔

ایک اور اہم مثال ویسٹ فیلیا کا معاہدہ (1648) ہے، جو ایک عظیم الشان سربراہی اجلاس میں نہیں بلکہ مونسٹر اور اوسنابرک کے شہروں میں 110 ماہرین کی میٹنگوں کے بعد طے پایا تھا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان مذاکرات میں حکمران براہ راست شریک نہیں تھے۔ یہ نمونہ بتاتا ہے کہ پائیدار امن عام طور پر تھکا دینے والے اور تکنیکی سفارتی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے، لیڈروں کے سیاسی تماشوں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

سرد جنگ میں، نکسن بریزنیف (1972) یا ریگن-گورباچوف (1985) جیسے رہنماؤں کے علامتی مذاکرات بھی جغرافیائی سیاسی دشمنیوں پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ اس کے برعکس ہر ملاقات کے بعد انگولا یا افغانستان میں مداخلت جیسے نئے بحران بڑھتے گئے۔ یوکرین میں اس جنگ (2022) کے موقع پر اسی طرز کو دہرایا گیا: پوٹن-بائیڈن مذاکرات نہ صرف جنگ کو نہیں روک سکے بلکہ فریقین کی مرضی کا امتحان بھی بن گئے۔

اس پس منظر میں اس سوال کا جواب "کیا الاسکا ملاقات بنیادی تبدیلی لا سکتی ہے؟" اب واضح ہے، بالکل نہیں۔ ان مذاکرات کا تجزیہ معاہدے کے انعقاد کے راستے کے طور پر نہیں بلکہ دنیا کی جغرافیائی سیاسی شگافوں کے آئینہ کے طور پر کیا جانا چاہیئے۔ لہٰذا، الاسکا جیسی ملاقاتوں کی اہمیت یہ نہیں ہے کہ وہ کسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے بلکہ یہ ہے کہ وہ عالمی نظام  کے تاریخی دور میں کس پوزیشن کو ظاہر کرتے ہیں۔ کیا دنیا جدید نظم یعنی ورلڈ آرڈر کی نئی تعریف کی طرف بڑھ رہی ہے، یا کشیدگی کے دھماکے کے دہانے پر ہے؟

تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ بنیادی تبدیلیاں عام طور پر بڑے بحرانوں (جیسے عالمی جنگیں یا سوویت یونین کے انہدام) کے بعد ہوتی ہیں۔ ہر نیو آرڈر کو انتظامی اور نگران طاقت کی ضرورت ہوتی ہے، اور آج ان اداروں میں سے کوئی بھی بین الاقوامی سطح پر اس کام کے لئے موجود نہیں ہے۔ الاسکا میں دونوں صدور نے مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے کوئی عمل متعارف نہیں کرایا اور نہ ہی اس کی توقع تھی۔ نتیجے کے طور پر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مذاکرات کے اختتام پر ٹرمپ  پوٹین  ظاہری دوستانہ سلام ایک نمائش سے زیادہ کچھ نہیں تھا، اور دنیا مزید خوفناک تصادم کی طرف بڑھ رہی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے طور پر ہے کہ وہ کے بعد

پڑھیں:

واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع

اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔

لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔

دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی: گھر میں لاکھوں روپے کی چوری کا ڈراپ سین، قریبی رشتہ دار ہی ملوث نکلا
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع