اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16 اگست ۔2025 )سپریم کورٹ نے عدلیہ میں فیصلوں میں تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسی روش عوام کے اعتماد کو مجروح کرتی ہے، قانون کی حکمرانی کو کمزور بناتی ہے اور خاص طور پر ان کمزور اور بے سہارا افراد کو نقصان پہنچاتی ہے جو طویل مقدمہ بازی برداشت نہیں کرسکتے.

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق جسٹس سید منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ فیصلوں میں تاخیر شدید معاشی اور سماجی اثرات مرتب کرتی ہے، یہ سرمایہ کاری کو روکتی ہے، معاہدوں کو بے معنی بنادیتی ہے اور عدلیہ کی ادارہ جاتی ساکھ کو کمزور کرتی ہے یہ ریمارکس انہوں نے عبدالاسلام خان کی اپیل کی سماعت کے دوران دیئے سپریم کورٹ کے دورکنی بنچ میں جسٹس عائشہ ملک سنیئرترین جج کے ساتھ کیس کی سماعت کررہی ہیں درخواست گزار نے پشاور ہائی کورٹ کے 3 نومبر 2021 کے اپنے موقف کے خلاف فیصلے کو چیلنج کیا تھا جسٹس منصورعلی شاہ نے تجویز دی کہ ٹریکنگ پروٹوکولز متعارف کرائے جائیں تاکہ غیر فعال مقدمات کی خودکار شناخت ہو سکے اور ساتھ ہی مقدمات کے شیڈول اور ترجیحی ترتیب میں مدد کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ٹولز کا محتاط استعمال کیا جائے تاکہ عدالتی صوابدید کو بھی محفوظ رکھا جائے.

جسٹس منصور علی شاہ نے زور دیا کہ ایسا نظام کم از کم یہ یقینی بنائے کہ مقدمات کو بر وقت اور غیر امتیازی بنیاد پر مقرر کیا جائے، قطار توڑنے اور خصوصی شیڈولنگ کو ختم کیا جائے انفرادی دعوﺅں کے بروقت فیصلوں پر سمجھوتہ کیے بغیر آئینی، معاشی یا قومی اہمیت کے معاملات کو ترجیح دی جائے زیرسماعت مقدمہ ایک غیر منقولہ جائیداد کی نیلامی کے خلاف چیلنج سے شروع ہواجو ایک بینک نے 26 اپریل 2010 کے مالیاتی ڈگری کے نفاذ میں کی تھی، نیلامی 2011 میں ہوئی، درخواست گزار نے اسی سال اعتراضات دائر کیے جو خارج ہوگئے، پشاور ہائی کورٹ میں اپیل 10 سال زیر التوا رہی اور بالآخر 2021 میں فیصلہ آیا معاملہ 2022 میں سپریم کورٹ تک پہنچا اور اب 2025 میں 3 سال بعد سنا گیا.

عدالت نے قراردیا کہ معاملہ صرف نیلامی کی قانونی حیثیت تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ بھی دیکھنا تھا کہ کیا 14 سال بعد کوئی بامعنی ریلیف دیا جاسکتا ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اگر درخواست گزار کا موقف درست بھی ہوتا، وقت کے بہاﺅنے اس کی افادیت کو تقریباً ختم کر دیا تھا اگرچہ سپریم کورٹ نے اپیل مسترد کردی ہے لیکن ریمارکس میں کہا کہ عدالتی نظام کی ساکھ صرف فیصلوں کی منصفانہ نوعیت پر ہی نہیں بلکہ ان کے بروقت ہونے پر بھی قائم ہے، یہ معاملہ محض انتظامی نہیں بلکہ آئینی ہے، کیونکہ آئین کے آرٹیکل 4، 9 اور 10-اے انصاف تک رسائی کا حق فراہم کرتے ہیں.

عدالت نے کہا کہ یہ حق منصفانہ اور بر وقت سماعت پر محیط ہے اور وہ تاخیر جو کسی موثر ریلیف کو بے اثر کردے، دراصل انصاف سے محرومی کے مترادف ہے جسٹس منصور علی شاہ نے زور دیا کہ انصاف کے حقیقی ہونے کے لیے، اسے منصفانہ اور بروقت بھی ہونا چاہیے ملک بھر کی عدالتوں میں اس وقت 22 لاکھ سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں، جن میں صرف سپریم کورٹ میں تقریباً 55 ہزار 941 مقدمات شامل ہیں، حالانکہ ججز کی تعداد بڑھا کر 24 کر دی گئی ہے یہ اعداد و شمار محض تجریدی نہیں بلکہ وقت میں معلق تنازعات کی نمائندگی کرتے ہیں.

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ فیصلوں میں تاخیر محض مقدمات کی زیادتی یا نچلی سطح کی نااہلی کا نتیجہ نہیں بلکہ عدالتی حکمرانی کا ایک گہرا اور ساختی چیلنج ہے عدلیہ کو ادارہ جاتی پالیسی اور آئینی ذمہ داری کے طور پر فوری طور پر ایک جدید، فعال اور دانشمندانہ کیس مینجمنٹ فریم ورک کی طرف بڑھنا ہوگا فیصلے میںکہا کیا گیا کہ دنیا بھر کے عدالتی نظاموں نے دکھایا ہے کہ تاخیر کوئی ناقابل حل حقیقت نہیں بلکہ ایک قابل حل ادارہ جاتی مسئلہ ہے سنگاپور، برطانیہ، برازیل، اسٹونیا، کینیڈا، چین، ڈنمارک اور آسٹریلیا جیسے ممالک نے ٹیکنالوجی، ساختی جدت اور عملی نظم کو ملا کر اصلاحات کی ہیں تاکہ مقدمات کے بوجھ کو کم کیا جا سکے اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے بین الاقوامی تجربات ایک بنیادی حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ انصاف میں تاخیر ناگزیر نہیں بلکہ ادارہ جاتی ڈیزائن کا نتیجہ ہے اور اسے وژن، منصوبہ بندی اور عزم کے ساتھ درست کیا جا سکتا ہے.

جسٹس منصور علی شاہ نے قراردیا کہ پاکستان کی عدلیہ کو ان عالمی تجربات سے سبق لینا چاہیے اور ایسی تبدیلیوں کے لیے پرعزم ہونا چاہیے جن میں تکنیکی جدت، انتظامی ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل اور منظم کیس مینجمنٹ شامل ہو تاکہ عدالتیں بروقت، شفاف اور شہری مرکوز انصاف فراہم کرنے کے قابل بن سکیں. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جسٹس منصور علی شاہ نے سپریم کورٹ ادارہ جاتی میں تاخیر کہ عدالتی نہیں بلکہ ہے اور دیا کہ

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور