پی ٹی وی ہیڈکوارٹرز کے 5 سال میں بجلی بلز کی مد میں 13 کروڑ سے زائد اخراجات
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
پی ٹی وی ہیڈکوارٹرز کے 5 سال میں بجلی بلز کی مد میں 13 کروڑ سے زائد اخراجات WhatsAppFacebookTwitter 0 8 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) پانچ سال کے دوران پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز کی عمارت کے بجلی کے بلوں کی مد میں 13 کروڑ 89 لاکھ روپے سے زائد خرچ ہو گئے۔
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے بجلی بلوں سے متعلق تحریری جواب قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا جس کے مطابق 21-2020 میں ایک کروڑ 72 لاکھ 87 ہزار 399 روپے بجلی بلوں کی مد میں خرچ ہوئے، 22-2021 میں 2 کروڑ 40 لاکھ 45 ہزار 382 روپے خرچ ہوئے ہیں۔
اسی طرح 23-2022 میں 2 کروڑ 88 لاکھ 95 ہزار 833 روپے بجلی بلوں کی مد میں خرچ ہوئے، 24-2023 میں 3 کروڑ 76 لاکھ 93 ہزار 235 روپے خرچ ہوئے جبکہ 25-2024 میں 3 کروڑ 10 لاکھ 14 ہزار 623 روپے بجلی بلوں کی مد میں خرچ ہو گئے۔
پانچ برس میں کل 13 کروڑ 89 لاکھ 36 ہزار 472 روپے بجلی بلوں کی مد میں خرچ ہوئے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت، ایف بی آر اور پرال کا جدید ڈیجیٹل ٹیکس سروسز فراہم کرنے کا عزم حکومت، ایف بی آر اور پرال کا جدید ڈیجیٹل ٹیکس سروسز فراہم کرنے کا عزم نوشین افتخار کی قرارداد ، ممکنہ طور شیخ وقاص اکرام کی نشست کا فیصلہ 11 اگست کے اجلاس میں متوقع ، تفصیلات و دستاویز... ماہرین کاپاکستان میں ٹیک پر مبنی ہیلتھ کیئر اصلاحات پر زور پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا؛ قومی اسمبلی سے تین اہم عہدے اور کمیٹیوں کی رکنیت واپس لے لی گئی اسلام آباد کے کتنے ہوٹلوں کو شراب فروخت کرنیکی اجازت ہے؟ تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش وزیراعظم کا 201 یونٹس پر اضافی بل کی شکایات کا نوٹس، کمیٹی بنانے کا فیصلہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی مد میں
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔