بھارت سے آنے والی آلودہ ہواؤں نے پنجاب کا فضائی معیار خطرناک حد تک گرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
بھارت سے مشرقی جانب سے داخل ہونے والی آلودہ ہواؤں نے پنجاب کے وسطی علاقوں میں فضائی آلودگی کو تشویشناک حد تک بڑھا دیا ہے۔
محکمہ ماحولیات پنجاب کے مطابق لاہور سمیت وسطی پنجاب اس وقت شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہے جس کے باعث ہوا میں مضر ذرات کی مقدار حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
محکمہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ بھارتی سرحدی علاقوں سے آنے والی آلودہ ہوائیں لاہور میں ایئر کوالٹی کو مسلسل متاثر کر رہی ہیں اور شہر کا اوسط اے کیو آئی 320 سے 360 کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پاکستان کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور تیسرے نمبر پر ریکارڈ ہوا جب کہ شہر کے مختلف مقامات پر ائیر کوالٹی انڈیکس 450 تک پہنچ گیا۔ محکمے کے مطابق فضا میں آلودگی کی سطح انتہائی بلند ضرور ہے تاہم فی الوقت صورتحال قابو سے باہر نہیں ہوئی، دوپہر ایک بجے سے شام پانچ بجے تک فضائی معیار میں کچھ بہتری آنے کی توقع ہے۔
بین الاقوامی فضائی نگرانی ویب سائٹ کے مطابق لاہور کے سیکرٹریٹ میں 1018، ساندہ روڈ پر 997 اور راوی روڈ پر 820 پارٹیکولیٹ میٹر ریکارڈ کیے گئے جبکہ برکی روڈ، شاہدرہ اور جی ٹی روڈ سمیت متعدد مقامات پر اے کیو آئی 500 درج ہوئی۔
پنجاب بھر میں اس وقت متعدد شہر شدید فضائی آلودگی کے زون میں داخل ہو چکے ہیں جن میں ڈیرہ غازی خان اور قصور بھی شامل ہیں جہاں ائیر کوالٹی انڈیکس 500 ریکارڈ کیا گیا۔ مختلف علاقوں میں 286 سے 601 تک کے پارٹیکولیٹ میٹر ریکارڈ سامنے آئے جنہیں ماہرین نے مضر صحت قرار دیتے ہوئے شہریوں کو ماسک کے استعمال اور غیر ضروری سرگرمیوں سے گریز کی ہدایات جاری کی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔