نوشین افتخار کی قرارداد ، ممکنہ طور شیخ وقاص اکرام کی نشست کا فیصلہ 11 اگست کے اجلاس میں متوقع ، تفصیلات و دستاویز سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 8 August, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(ایڈیٹر انوسٹی گیشن ) تحرک انصاف کے محترک اور جھنگ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی شیخ وقاص اکرم قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلسل چالیس روز غیر حاضر رہے۔

اس دورانیہ میں نا تو کوئی رخصت کی درخواست آئی اور نا ہی وہ خود ایوان میں آئے قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق رول 44/1 کے تحت اگر کوئی رکن قومی اسمبلی بغیر کسی اطلاع کے ایوان سے مسلسل چالیس اجلاسوں میں غیر حاضر ہو اور اسپیکر قومی اسمبلی ایوان کو متعلقہ رکن اسمبلی کی غیر حاضری سے متعلق آگاہ کریں گے تو کسی بھی رکن اسمبلی کی قرارداد کے تحت ایوان میں ووٹنگ کروا کر غیر حاضر رکن اسمبلی کی نشست کو خالی قرار دیا جا سکتا ہے ۔

ووٹنگ میں حاضر ارکان حصہ لے سکتے ہیں اور اکثریت ارکان کی رائے کا حتمی تصور کیا جائے گا ،، پانچ اگست کے اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایوان کو آگاہ کیا کہ شیخ وقاص اکرم ایوان سے مسلسل چالیس روز سے غیر حاضر ہیں جس کے بعد رکن قومی اسمبلی نوشین افتخار نے ایوان میں شیخ وقاص اکرم کی نشست خالی قرار دینے کی قرارداد پیش کی جس پر گیارہ اگست کو ووٹنگ ہونے کا امکان ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرماہرین کاپاکستان میں ٹیک پر مبنی ہیلتھ کیئر اصلاحات پر زور ماہرین کاپاکستان میں ٹیک پر مبنی ہیلتھ کیئر اصلاحات پر زور پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا؛ قومی اسمبلی سے تین اہم عہدے اور کمیٹیوں کی رکنیت واپس لے لی گئی اسلام آباد کے کتنے ہوٹلوں کو شراب فروخت کرنیکی اجازت ہے؟ تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش وزیراعظم کا 201 یونٹس پر اضافی بل کی شکایات کا نوٹس، کمیٹی بنانے کا فیصلہ قوم کے ہیرو میجر طفیل محمد شہید (نشانِ حیدر) کو سلام: صدر و وزیر اعظم کے پیغامات الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کر لی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کے اجلاس میں کی قرارداد سب نیوز کی نشست

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی