بلوچستان بھر میں امن و امان کے پیش نظر مزید 15 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک :بلوچستان بھر میں امن و امان کے پیش نظر مزید 15 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔
بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے دوران موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہوگی، موٹرسائیکل چلاتے ہوئے چہرہ چھپانے پر بھی پابندی ہوگی۔
صوبے بھر میں ہر قسم کے اجتماعات، 5 سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر بھی پابندی ہوگی، پابندی کااطلاق 31اگست تک ہوگا۔
مائع قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان
حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے پیش نظر مزید 15 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کی ہے، جو 16 اگست سے 31 اگست تک نافذالعمل رہے گی۔
یاد رہے کہ حکومت بلوچستان نے یکم تا 15 اگست تک بھی صوبے میں دفعہ 144 کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔
13 اگست کو حکومت بلوچستان نے صوبے بھر میں رات کے وقت پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی تھی۔
قوم اس آزمائش کی گھڑی میں مصیبت زدہ شہریوں کے ساتھ کھڑی ہے، صدر زرداری
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اب صوبے بھر کی شاہراہوں پر شام 5 بجے سے صبح 5 بجے تک عوامی ٹرانسپورٹ کو چلانے کی اجازت نہیں ہوگی، پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے روٹ پرمٹ منسوخ کر دیے جائیں گے۔
یہ فیصلہ صوبائی سیکرٹری ٹرانسپورٹ محمد حیات کاکڑ کی زیر صدارت ایک اجلاس میں کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔