Juraat:
2026-06-03@08:44:56 GMT

کچھ بدلنے والا نہیں ہے!

اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT

کچھ بدلنے والا نہیں ہے!

آفتاب احمد خانزادہ
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈچ فلسفی باروچ اسپینوزا کہتا ہے ریاست کا اصل کام افراد کو کنٹرول کرنا نہیں ہے اور نہ ہی لوگوں کو ڈرا دھمکا کر خوف و ہراس میں مبتلا کیے رکھنا ہے، بلکہ ریاست کا بنیادی مقصد ہر انسان کے لیے تحفظ اور امن و امان کی صورتحال یقینی بنا کر شہریوں کو خوف سے آزاد کرنا ہے ۔ جیسا کہ ایک ریاست اس طرح سے حفاظت کرنے کی اپنے ملک کے شہریوں سے سالانہ ایک بھاری قیمت وصول کرتی ہے ۔تاکہ شہری تحفظ کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں اور اپنا کام دلجمعی کے ساتھ کر سکیں۔میں دہراتا ہوں کہ ایک ریاست کا مقصد اعلیٰ اور قابل ذہنوں کے حامل عقلمند انسانوں کو جنگلی جانوروں یا مشینوں میں تبدیل کرنا نہیں ہے بلکہ ریاست کا کام اپنے لوگوں کو ایسی زندگی فراہم کرنا ہے جس میں وہ لطف اندوز ہو سکیں ۔ ان کا ذہن اور سوچنے کا انداز آزادانہ ہو، تاکہ وہ بزور طاقت، نفرت یا غصے کی شکل میں اپنے ساتھ ہونے والی بددیانتیوں اور نا انصافیوں کا بدلہ نہ لیتے پھریں ۔ریاست کا اصل مقصد لوگوں کو آزادی کی ضمانت فراہم کرنا ہے!
ذرا ا ن آوازوں پر توجہ دیجیے ” میں بہت مایوس اور حوصلہ ہارے ہوئے ہوں ۔ میری تو کوئی زندگی نہیں ہے میں تو ٹو ٹ پھوٹ چکا ہوں۔ میں اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہوں، میری زندگی کے کوئی معنی نہیں ہیں ۔ میں یہاں سے کہیں بھاگ جانا چاہتاہوں ۔ کوئی بھی نہ تو میری قدر کرتا ہے اور نہ مجھے سمجھتا ہے ، میری آمدنی ہی اتنی نہیں کہ ضروریات پوری ہوسکیں، ہرا میر اور بااختیار آدمی مجھے ذلیل کرتا پھرتا ہے ۔ہمارے ملک کے حالات کبھی نہیں بدلیں گے ۔ ملک میں کرپشن اور لوٹ مار ایسے ہی چلتی رہے گی ۔ میرے نصیب کبھی نہیں بدلیں گے ۔ کوئی بھی میرے متعلق نہیں سو چتا ہے ۔ میں بدانتظامی کا شکار ہوں میرا دم گھٹ رہا ہے ۔ میں اس منافقانہ سیاست سے تنگ آگیاہوں ۔ سب چور ہیں ، میں اندیشوں میں مبتلا رہتاہوں خوف زدہ ہوں ۔ میں اکیلا حالات تبدیل نہیں کرسکتا ۔ کچھ بدلنے والا نہیں ہے ،آئندہ بھی ایسا ہی چلتا رہے گا ۔ یہ تمام آوازیں ہمارے دفتروں ، گھروں ، بازاروں ، گلیوں اور محلوں میں سنائی دیتی ہیں ۔یہ آوازیں لاکھوں والدین ، ملازموں ، ماتحتوں ، محنت کشوں ، طالب علموں ، آجروں ،ٹھیلہ لگانے والوں ، رکشہ چلانے والوں کی ہیں ، یہ آوازیں پاکستان کے ان افراد کی ہیں جو اپنی دنیا کو ایک نئی حقیقت میں تبدیل کرنے کی جنگ میں مصروف ہیں ۔یہ آوازیں اس اذیت کی عکاس ہیں جو ذاتی بھی ہے اور گہری بھی ۔ ان آوازوں میں بہت سی خود آپ کی بھی ہوسکتی ہیں ۔اسی لیے کارل روجر نے کہا تھا ” جوکچھ انتہائی ذاتی ہے وہ انتہائی عام ہے ”۔ایڈورڈ بین فیلڈ کہتے ہیں ” کسی بھی سیاسی نظام کو ایک حادثے سے تعبیر کیاجاسکتا ہے یہ فی الواقع آزمائش و خطاکے طویل عمل سے سلامت بچ نکلنے والے رسوم و رواج ، عادات و تعصبات اور اصولوں اوربدلتے ہوئے حالات کے نتیجے میں پیداہونے والے مسلسل رد عمل کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اگر مجموعی طورپر یہ نظام ٹھیک کام کرتا دکھائی دے تو اسے ہم ایک خوشگوار حادثہ تعبیر کرتے ہیں۔ کسی معاشرے ، اس معاشرے کے تمام اداروں اس کے پورے کردار اور اس میں وضع پانے والی انسانی اضاف کا اصل دارومدار حکومت اور سیاسی نظام پر ہوتا ہے ”۔ ہماری خوشی کا سارا دارومدار اس بات پر ہوتاہے کہ ہمیں وراثت میں کیا ملا ہے ہمارا کردار کیا ہے ہمیں رشتے میں کیسے لوگ ملے ہیں اور ہم کہاں اور کن حالات میں پیدا ہوئے ہیں اور پھریہ بھی کہ ہمار انصیب کیسا ہے لیکن شہروں اور قوموں میں انسانی خوشی کے لیے سب سے زیادہ اہم جو بات ہوتی ہے، وہ آب و ہوا یا آس پاس کے قدرتی مناظر اچھے یا برے جین یا قومی کردار نہیں ہوتے بلکہ وہاں جاری حکومت کا معیار ہوتا ہے۔ برطانیہ ، یورپ ، امریکہ ، کینیڈا، آسٹریلیا تک یہ ریاست کے ہی اوصاف ہیں جو لوگوں کی خوشحالی کا تعین کرتے نظر آتے ہیں ۔حال ہی میں دنیا کے پچاس ملکوں سے اعداد و شمار حاصل کرکے ایک تجزیہ مرتب کیاگیا ہے جس میں مختلف علاقوں اور معاشروں میں پائے جانے والے خوشی و مسرت کے مختلف درجوں اور ان کے تعین میں اہم کردار ادا کرنے والے عوامل کا جائزہ لیاگیا ہے۔ اس تجزئیے جسے کہ ہم اب تک کیا جاناوالا بہترین تجزیہ قرار دے سکتے ہیں کہ مطابق عوام کی خوشی و خو شحالی پر اچھی حکومت جس قدر زیادہ اثرات مرتب کرتی ہے، وہ ان اثرات سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہیں جو کہ اچھی تعلیم اچھی آمدن اوربہتر صحت سے مرتب ہوتے ہیں۔ بری حکومت ایسی حکومت ہوتی ہے کہ جو جوابدہی سے انکاری ہو، چھپنا شروع کر دے جو خود کو ہی اپنا جواز ماننے لگے اور باقی سب کے احتساب کے در پے ہوجائے جو اپنی حقیقت خود تخلیق کرنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ تانگ عہد کاایک چینی وزیراعظم بادشاہوں کی برائیاں یوں گنواتا ہے جتنے کی ترجیح ، اپنی غلطیوں کا سن کر غصہ میں آجانا ، اپنے اختیار میں اضافہ اور اپنی مضبوط خواہش پر قابو پانے میں ناکامی ۔ وہ بتاتا ہے کہ جب انہیں یہ جراثیم لگ جائیں تو پھر وہ لوگوں کی باتوں پر کان دھرنا بندکردیتے ہیں اور انتشار و افراتفری کے بیج پنپنا شروع کردیتے ہیں ، بری حکومت اور برائی کاجنم خود نہیں ہوتا ہے یہ ہم ہی ہیں جو انہیں جنم دیتے ہیں جب ایک بار ان کا جنم ہوجاتا ہے تو ان کے وارث خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں اور ہرآنے والا وارث اور بر ااوربرائی والا ہوتا ہے۔ اگر آج ہمیں بری حکومت اور اس کی برائیوں کا سامنا ہے تو یہ آغاز نہیں ہے بلکہ یہ تو تسلسل ہے۔ ہمیں تو آغاز ہی سے بر ی حکومت اور اس کی برائیوں کا سامنا ہے ایسا کرتے ہیں کہ ہم پہلے ہی دن سے آج تک کی حکومتوں کا جائزہ لے لیتے ہیں اور عام لوگوں کی زندگیوں کا بغور مطالعہ کرتے ہیں ۔مہنگائی ، بیروزگاری ، خارجہ پالیسی ، پڑوسیوں سے تعلقات ، بجلی ، پانی ، گیس کی صورتحال ، بدانتظامی ، بدنظمی ، برداشت ، رواداری، انتہاپسندی، دہشت گردی، خواتین اور اقلیتوں کی صورتحال ،کرپشن ، لوٹ مار کوبغورٹٹولتے ہیں گورننس کو باریکی سے دیکھتے ہیں اور پھر دوبارہ آج میں لوٹ آتے ہیں اور آج کے اور ماضی کے اعداد و شمار کو سامنے رکھ لیتے ہیں ۔فرق صاف ظاہر ہوجائے گا یا تو ہمارے نصیب ہی خراب ہیں یا پھر ہم خودہی خراب ہیں، ان دونوں میں سے ایک بات تو ضرور ہے، ورنہ کیا ہمیں ایک اچھی حکومت نہ ملی ہوتی کہ جس کے وارث پیدا ہوجاتے اور ہم سب بھی دنیا کے باقی لوگوں کی طرح چین و سکون اور آرام و خوشحالی کی زندگی گزار رہے ہوتے ۔اور جو جو آج کل ہورہاہے، ایسا نہ ہورہا ہوتا۔ ایسی ایسی کرپشن اور لوٹ مار جو کبھی پہلے نہ سنی اور نہ پڑھی دنیا بھرکے نامور کرپٹ اور راشی حضرات نے ہماری کرپشن اور لوٹ مار دیکھ کر اپنے کام ہی سے توبہ کرلی کیونکہ ان کے ساتھیوں نے ان پر اس قدر لعنت ملامت کی کہ ایک تم ہو اور دوسر ی طرف پاکستانی ہیں۔ اپنی کر پشن اور لوٹ مار دیکھو اور دوسری طرف ان کی دیکھو لعنت ہے تم پر۔ اس قدر محنت ، رسک ، خطرے ، کے بعد ہاتھ اور جیب میں کیا خاک آتاہے اور دوسری طرف ہر وقت مقدمات ، پولیس اور جیل کا خوف ڈراتا رہتا ہے ۔
اصل میں ہمارے حکمران صر ف خود جیتنا چاہتے ہے اور 25 کروڑ انسانوں کو ہرانا چاہتے ہے۔ اس لیے مبارک ہو حکمرانوں تم جیت گئے اور 25 کروڑ انسان ہار گئے۔ اب صرف تم فاتح ہو اور ہم سب مفتو ح ہیں اب صر ف تم زندہ ہو اورہم سب مردے ہیں ۔اب تمہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ تمہاری سلطنت میں اب سب مردہ ہیں۔ شادیانے اورتیز بجائو اور جشن منائو کیونکہ تم جیت گئے ہو اورہم سب ہار گئے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اور لوٹ مار حکومت اور لوگوں کی ریاست کا ہوتا ہے ہیں اور نہیں ہے ہیں جو ہے اور ہو اور

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد