Islam Times:
2026-06-03@08:11:23 GMT

صحافی کی جیکٹ اب تحفظ نہیں، ہدف ہے

اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT

صحافی کی جیکٹ اب تحفظ نہیں، ہدف ہے

اسلام ٹائمز: میدان جنگ میں ایک صحافی کو عام شہری سمجھا جاتا ہے اور اسے مکمل تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اسرائیل کے نقطہ نظر سے، امریکہ کے حمایت یافتہ بدلتے ہوئے سیاسی نقشوں کے ساتھ، اس اصول کو الٹا کر دیا گیا ہے۔ صیہونی حکومت کے ہاتھوں شہید ہونے والے 238 صحافیوں نے یہ ثابت کیا کہ "صحافی کی مخصوص جیکٹ اب تحفظ نہیں ہے، بلکہ ایک ہدف ہے۔" دشمن یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ سچی داستان آگ اور خون کر دریا سے گزر کر دنیا کے کانوں تک پہنچے، اس لیے وہ راویوں کو خاموش کر دیتا ہے۔ تحریر: اردشیر زابلی زادہ 

آج غزہ میں ایک بے رحم جنگ جاری ہے۔ ایک ایسی جنگ جس نے جغرافیائی حدود کو توڑا اور صحافت کے پیشے کے قلب کو نشانہ بنایا۔ 7 اکتوبر 2023ء سے لیکر اب تک سرکاری رپورٹس کے مطابق، غزہ میں 211 سے زیادہ صحافی شہید ہو چکے ہیں۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے یہ تعداد 186 بتائی ہے اور مقامی ذرائع سے شائع ہونے والے تازہ ترین اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ یہ تعداد 238 تک پہنچ گئی ہے۔ دشمن اچھی طرح جانتا ہے کہ اصل جنگ بیانیہ کی جنگ ہے اور اس بیانیے کو خاموش کرنے کے لیے صیہونی حکومت صحافیوں کے خیموں پر بمباری کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔

یہ شہداء غزہ کی تھکی ہوئی آواز ہیں، سچ بولنے والوں کی قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور اس بات کی زندہ گواہی ہیں کہ اصل جنگ بیانیے کی جنگ ہے۔ یہ بات دشمن بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ بیانیے پر قابو پانا چاہیئے، بیانیے کو خاموش کرنا چاہیئے۔ اس لیے بین الاقوامی قوانین اور صحافیوں پر حملے کی ممانعت کے باوجود الجزیرہ نیٹ ورک کے صحافیوں کو بار بار نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، کیونکہ صحافی کا بیانیہ  اسکا سب سے زیادہ جارحانہ ہتھیار  ہوتا ہے۔

تازہ ترین جرم میں، اسرائیلی فوج نے الشفاء ہسپتال کے ارد گرد صحافیوں کے خیموں پر براہ راست اور ٹارگٹیٹڈ حملوں میں الجزیرہ کے دو صحافیوں سمیت دیگر پانچ صحافیوں کو شہید کر دیا۔ ان میں انس الشریف، "غزہ کا راوی" بھی تھا، جس کے گھر کو پہلے نشانہ بنایا گیا تھا اور جس کے والد اس حملے میں شہید ہوئے تھے۔ انس الشریف نے اپنی شہادت سے پہلے درج ذیل وصیت کی "خدایا گواہ رہنا ان لوگوں پر جو خاموش رہے، جنہوں نے ہمارے قتل پر رضامندی ظاہر کی، اور جن کے دل ہمارے بچوں اور عورتوں کی بکھری لاشوں سے نہیں دہلے۔"

یہ جملہ ایک تاریخی دستاویز ہے۔ خطے میں عرب میڈیا کی خاموشی اور بے حسی کے خلاف ایک مستند دستاویز۔ شہید صحافیوں کی ایک طویل فہرست ہے، ایک آزاد فوٹوگرافر اور فلمساز اسماعیل ابو حاطب سے لے کر الاقصیٰ ریڈیو کی دعا شرف تک جو اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ شہید ہوئی تھی۔ ان میں سے ہر ایک نام ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ وہ راوی تھے جو آخری دم تک اپنی داستان پر یقین رکھتے تھے اور اس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس خونریزی کے سامنے میڈیا کے ادارے بھی خاموش ہیں۔ یہ خاموشی غیر جانبداری نہیں ہے اور نہ ہی پیشہ ورانہ احتیاط، بلکہ ظلم کے ساتھ خاموش تعاون ہے۔ وہی خاموشی جس کے بارے میں انس الشریف نے کہا تھا۔ ایک خاموشی جو قتل کی رضامندی دیتی ہے۔

آج جنگ صرف زمین کی نہیں بلکہ سچائی اور بیانیے کی ہے۔ صحافیوں کی مخصوص جیکٹ جو پریس کی مخصوص علامت ہے بین الاقوامی قانون میں جنگوں میں بھی استثنیٰ کی علامت ہے۔ صحافی کا کام  واضح اور حقائق پر مبنی پیغام پہنچانا ہوتا ہے جو جنگ میں نہ تو سپاہیوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے اور نہ ہی فریقین یہ کام کرسکتے ہیں۔ یہ پیغام حق کے متلاشیوں کی آنکھوں اور آوازوں سے رائے عامہ تک پہنچتا ہے۔ یہ اس صورت میں ممکن ہے جب پریس کی جیکٹ پہنے صحافی کو گولیوں اور حملوں کے درمیان آزادی کے ساتھ رپورٹنگ کی اجازت ہو اور اسکی جیکٹ قانونی ڈھال کے طور پر کام کرسکے۔

یہ جنیوا کنونشنز کے بنیادی اصول کی  بھی یاد دلاتا ہے۔ میدان جنگ میں ایک صحافی کو عام شہری سمجھا جاتا ہے اور اسے مکمل تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اسرائیل کے نقطہ نظر سے، امریکہ کے حمایت یافتہ بدلتے ہوئے سیاسی نقشوں کے ساتھ، اس اصول کو الٹا کر دیا گیا ہے۔ صیہونی حکومت کے ہاتھوں شہید ہونے والے 238 صحافیوں نے یہ ثابت کیا کہ "صحافی کی مخصوص جیکٹ اب تحفظ نہیں ہے، بلکہ ایک ہدف ہے۔" دشمن یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ سچی داستان آگ اور خون کر دریا  سے گزر کر دنیا کے کانوں تک پہنچے، اس لیے وہ راویوں کو خاموش کر دیتا ہے۔ 

تاریخ یاد رکھے گی کہ اسرائیل نے الجزیرہ کے مسلمان اور عرب صحافیوں کے بیانیے کو کھلے عام پیشہ ورانہ فرائض کے دوران خاموش کر دیا اور یہ بھی یاد رہے گا کہ انسانیت کے اس امتحان میں کچھ  عرب میڈیا نے اپنی خاموشی سے اپنا حصہ ڈالا۔ آج پہلے سے زیادہ یہ جنگ بیانیے کی جنگ ہے۔ غزہ میں شہید ہونے والے صحافی اور انکے  ساتھیوں کا بیانیہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو دشمن کے لیے کسی بھی بم یا میزائل سے زیادہ خطرناک ہے۔ حقیقت پسند پیشہ ور مسلمان صحافی اس غیر مساوی جنگ کے آخری صفحہ تک ان شہید صحافیوں کے ساتھ رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کو خاموش کر صحافیوں کے ہونے والے کی مخصوص سے زیادہ کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کر دیا ہے اور

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی