Islam Times:
2026-07-24@10:47:00 GMT

حزب اللہ کے ہتھیار لبنان کی دفاعی ڈھال

اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT

حزب اللہ کے ہتھیار لبنان کی دفاعی ڈھال

اسلام ٹائمز: حزب اللہ لبنان نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے خود کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں پر فیصلہ کن موقف اختیار کرتے ہوئے اپنے اسلحے اور ہتھیاروں کو ریڈ لائن قرار دیا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ ایک طاقتور اور خودمختار قومی فوج نہ ہونے کے ناطے اسلامی مزاحمت بیرونی جارحیت کے مقابلے میں لبنان کے دفاع کا واحد ذریعہ ہے۔ دوسری طرف لبنان حکومت جو شدید اقتصادی اور سیاسی دباو کا شکار ہے، مغربی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کے ناجائز مطالبات پورے کر کے مالی امداد وصول کرنے کی خواہاں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لبنان حکومت نے جو راستہ اختیار کیا ہے اس کا نتیجہ سوائے تناو میں اضافے اور اندرونی سطح پر مختلف گروہوں میں ٹکراو کے کچھ نہیں نکلے گا۔ اگر اسرائیل یہ محسوس کر لے کہ اسلامی مزاحمت ختم یا کمزور ہو چکی ہے تو وہ پوری طاقت سے دوبارہ حملہ کرے گا اور لبنان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ تحریر: رسول قبادی
 
ایسے وقت جب لبنان بدستور سیاسی اور اقتصادی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، وزیراعظم نواف سلام کی جانب سے لبنان آرمی کے ذریعے تمام ہتھیار حکومت کی تحویل میں لے لینے کے منصوبے کے اعلان نے ملک بھر میں تناو اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ فیصلہ جو بظاہر حکومت رٹ قائم کرنے کی خاطر انجام پایا ہے حزب اللہ لبنان کی جانب سے شدید ردعمل کا باعث بنا ہے۔ حزب اللہ نے حکومت کے اس فیصلے کو اسلامی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے اور صیہونی رژیم کی فوجی جارحیت کے مقابلے میں لبنان کی دفاعی طاقت کمزور کرنے کے امریکی اسرائیلی منصوبے کا حصہ قرار دیا ہے۔
اندرونی بحران کے سائے تلے بیرونی دباو
جوزف عون کی سربراہی میں کابینہ اجلاس کے بعد نواف سلام کی جانب سے تمام ہتھیار حکومت کی تحویل میں دینے کے منصوبے کا اعلان کیا گیا۔ نواف سلام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ حکومتی فیصلوں اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 سمیت بین الاقوامی قراردادوں کو لاگو کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
 
اس قرارداد میں لبنان میں تمام غیر حکومتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور سرحد پر صرف فوج تعینات کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ دوسری طرف یہ فیصلہ ایسے حالات میں سامنے آیا ہے جب لبنان امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شدید سیاسی اور اقتصادی دباو کا شکار ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق لبنان کے لیے خصوصی امریکی ایلچی تھامس براک نے لبنانی حکام کے ساتھ اپنے مذاکرات میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کو اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر حملے روکنے اور لبنان کو بین الاقوامی امداد کی فراہمی کی شرط قرار دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل گذشتہ کئی عشروں سے حزب اللہ لبنان کو خطے میں اپنے مفادات کے لیے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں اور مختلف قسم کے اقتصادی اور سفارتی ہتھکنڈوں کے ذریعے لبنان حکومت پر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے دباو ڈالتے آئے ہیں۔
 
اسلامی مزاحمت کے ہتھیار، حزب اللہ لبنان کی ریڈ لائن
حزب اللہ لبنان جو خطے کا طاقتور ترین سیاسی مسلح گروہ کے طور پر جانا جاتا ہے، نے حکومت کے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ حزب اللہ نے اپنے بیانیے میں حکومت کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "عظیم غلطی" قرار دیا جس کا نتیجہ اسرائیل اور امریکہ کے جارحانہ اقدامات کے مقابلے میں لبنان کے کمزور ہو جانے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ حزب اللہ نے کابینہ کے اجلاس سے اپنے اور امل تحریک کے وزرا کے واک آوٹ کو اس فیصلے کی شدید مخالفت کا عکاس قرار دیا اور اسے تمام قوموں اور جماعتوں پر مشتمل لبنانے معاشرے کے وسیع حصے کا ترجمان جانا۔ حزب اللہ نے عوام کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا: "یہ بحران بھی گزر جائے گا، ہم صبر اور فتح کے عادی ہو چکے ہیں۔ اسلامی مزاحمت اس حکومتی فیصلے کو امریکی ایلچی کی ڈکٹیشن کا نتیجہ سمجھتی ہے۔"
 
حزب اللہ کی مخالفت کی وجوہات
حزب اللہ لبنان کی جانب سے اس منصوبے کی مخالفت کی وجوہات درج ذیل ہیں:
1)۔ اسرائیل سے درپیش خطرات کا دفاع: حزب اللہ لبنان نے 1982ء میں اپنی تشکیل سے لے کر آج تک مسلسل صیہونی غاصبانہ قبضے اور جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ 2000ء میں جنوبی لبنان کی آزادی اور 2006ء میں اسرائیل کے خلاف 33 روزہ جنگ میں اس تنظیم کا کردار ابھر کر سامنے آیا ہے۔ لہذا اب ایسے حالات میں جب اسرائیل بدستور لبنان کی قومی سالمیت اور خودمختاری کے خلاف اقدامات انجام دینے میں مصروف ہے حزب اللہ لبنان اپنے پاس موجود اسلحہ اور ہتھیاروں کو لبنان کے دفاع کا ضامن سمجھتی ہے اور انہیں کھونا نہیں چاہتی۔
2)۔ مزاحمت کے تشخص کا تحفظ: حزب اللہ محض ایک فوجی طاقت نہیں بلکہ عوامی حمایت کی حامل ایک سماجی سیاسی تحریک بھی ہے۔ اس گروہ کے پاس موجود اسلحہ مغربی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف مزاحمت کی علامت اور اس کے تشخص کا حصہ ہے۔ اس کا غیر مسلح ہونا اس کا تشخص کمزور ہو جانے کے مترادف ہے۔
 
3)۔ فوج اور حکومت پر عدم اعتماد: حزب اللہ لبنان اور اس کے حامی سمجھتے ہیں کہ لبنان آرمی مغربی طاقتوں کے سیاسی اثرورسوخ اور اقتصادی لحاظ سے مغرب پر انحصار کی بدولت بھرپور انداز میں لبنان کے قومی مفادات کا دفاع کرنے سے قاصر ہے۔ گذشتہ تجربات جیسے اسرائیلی فوجی جارحیت کے دوران موثر انداز میں ردعمل ظاہر نہ کرنا وغیرہ بھی اس عدم اعتماد کو مزید فروغ دیتے ہیں۔
4)۔ بیرونی دباو اور مڈل ایسٹ منصوبہ: حزب اللہ لبنان کی نظر میں تمام گروہوں کو غیر مسلح کر کے ان کا اسلحہ حکومتی تحویل میں لینے کا منصوبہ درحقیقت امریکہ اور اسرائیل کے اس گریٹر مڈل ایسٹ منصوبے کا حصہ ہے جو خالصتاً امریکی اور اسرائیلی مفادات کے تحفظ کی خاطر بنایا گیا ہے۔ یہ منصوبہ 1990ء میں پیش کیا گیا تھا اور اس میں ایران اور حزب اللہ سمیت اسلامی مزاحمتی قوتوں کو کمزور کرنا اور خطے پر اسرائیلی تسلط قائم کرنا شامل ہے۔
 
مزاحمت یا تسلیم؟
حزب اللہ لبنان نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے خود کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں پر فیصلہ کن موقف اختیار کرتے ہوئے اپنے اسلحے اور ہتھیاروں کو ریڈ لائن قرار دیا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ ایک طاقتور اور خودمختار قومی فوج نہ ہونے کے ناطے اسلامی مزاحمت بیرونی جارحیت کے مقابلے میں لبنان کے دفاع کا واحد ذریعہ ہے۔ دوسری طرف لبنان حکومت جو شدید اقتصادی اور سیاسی دباو کا شکار ہے، مغربی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کے ناجائز مطالبات پورے کر کے مالی امداد وصول کرنے کی خواہاں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لبنان حکومت نے جو راستہ اختیار کیا ہے اس کا نتیجہ سوائے تناو میں اضافے اور اندرونی سطح پر مختلف گروہوں میں ٹکراو کے کچھ نہیں نکلے گا۔ اگر اسرائیل یہ محسوس کر لے کہ اسلامی مزاحمت ختم یا کمزور ہو چکی ہے تو وہ پوری طاقت سے دوبارہ حملہ کرے گا اور لبنان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے مقابلے میں لبنان امریکہ اور اسرائیل حزب اللہ لبنان کی کو غیر مسلح کرنے کو غیر مسلح کر اسلامی مزاحمت امریکہ اور اس میں لبنان کے لبنان حکومت حزب اللہ نے قرار دیا ہے کی جانب سے جارحیت کے کا نتیجہ کمزور ہو کرنے کی کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • زندگی کا مقصد
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان