Islam Times:
2026-06-03@02:38:26 GMT

حزب اللہ کے ہتھیار لبنان کی دفاعی ڈھال

اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT

حزب اللہ کے ہتھیار لبنان کی دفاعی ڈھال

اسلام ٹائمز: حزب اللہ لبنان نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے خود کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں پر فیصلہ کن موقف اختیار کرتے ہوئے اپنے اسلحے اور ہتھیاروں کو ریڈ لائن قرار دیا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ ایک طاقتور اور خودمختار قومی فوج نہ ہونے کے ناطے اسلامی مزاحمت بیرونی جارحیت کے مقابلے میں لبنان کے دفاع کا واحد ذریعہ ہے۔ دوسری طرف لبنان حکومت جو شدید اقتصادی اور سیاسی دباو کا شکار ہے، مغربی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کے ناجائز مطالبات پورے کر کے مالی امداد وصول کرنے کی خواہاں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لبنان حکومت نے جو راستہ اختیار کیا ہے اس کا نتیجہ سوائے تناو میں اضافے اور اندرونی سطح پر مختلف گروہوں میں ٹکراو کے کچھ نہیں نکلے گا۔ اگر اسرائیل یہ محسوس کر لے کہ اسلامی مزاحمت ختم یا کمزور ہو چکی ہے تو وہ پوری طاقت سے دوبارہ حملہ کرے گا اور لبنان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ تحریر: رسول قبادی
 
ایسے وقت جب لبنان بدستور سیاسی اور اقتصادی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے، وزیراعظم نواف سلام کی جانب سے لبنان آرمی کے ذریعے تمام ہتھیار حکومت کی تحویل میں لے لینے کے منصوبے کے اعلان نے ملک بھر میں تناو اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ فیصلہ جو بظاہر حکومت رٹ قائم کرنے کی خاطر انجام پایا ہے حزب اللہ لبنان کی جانب سے شدید ردعمل کا باعث بنا ہے۔ حزب اللہ نے حکومت کے اس فیصلے کو اسلامی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے اور صیہونی رژیم کی فوجی جارحیت کے مقابلے میں لبنان کی دفاعی طاقت کمزور کرنے کے امریکی اسرائیلی منصوبے کا حصہ قرار دیا ہے۔
اندرونی بحران کے سائے تلے بیرونی دباو
جوزف عون کی سربراہی میں کابینہ اجلاس کے بعد نواف سلام کی جانب سے تمام ہتھیار حکومت کی تحویل میں دینے کے منصوبے کا اعلان کیا گیا۔ نواف سلام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ حکومتی فیصلوں اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 سمیت بین الاقوامی قراردادوں کو لاگو کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
 
اس قرارداد میں لبنان میں تمام غیر حکومتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور سرحد پر صرف فوج تعینات کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ دوسری طرف یہ فیصلہ ایسے حالات میں سامنے آیا ہے جب لبنان امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شدید سیاسی اور اقتصادی دباو کا شکار ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق لبنان کے لیے خصوصی امریکی ایلچی تھامس براک نے لبنانی حکام کے ساتھ اپنے مذاکرات میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کو اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر حملے روکنے اور لبنان کو بین الاقوامی امداد کی فراہمی کی شرط قرار دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل گذشتہ کئی عشروں سے حزب اللہ لبنان کو خطے میں اپنے مفادات کے لیے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں اور مختلف قسم کے اقتصادی اور سفارتی ہتھکنڈوں کے ذریعے لبنان حکومت پر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے دباو ڈالتے آئے ہیں۔
 
اسلامی مزاحمت کے ہتھیار، حزب اللہ لبنان کی ریڈ لائن
حزب اللہ لبنان جو خطے کا طاقتور ترین سیاسی مسلح گروہ کے طور پر جانا جاتا ہے، نے حکومت کے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ حزب اللہ نے اپنے بیانیے میں حکومت کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "عظیم غلطی" قرار دیا جس کا نتیجہ اسرائیل اور امریکہ کے جارحانہ اقدامات کے مقابلے میں لبنان کے کمزور ہو جانے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ حزب اللہ نے کابینہ کے اجلاس سے اپنے اور امل تحریک کے وزرا کے واک آوٹ کو اس فیصلے کی شدید مخالفت کا عکاس قرار دیا اور اسے تمام قوموں اور جماعتوں پر مشتمل لبنانے معاشرے کے وسیع حصے کا ترجمان جانا۔ حزب اللہ نے عوام کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا: "یہ بحران بھی گزر جائے گا، ہم صبر اور فتح کے عادی ہو چکے ہیں۔ اسلامی مزاحمت اس حکومتی فیصلے کو امریکی ایلچی کی ڈکٹیشن کا نتیجہ سمجھتی ہے۔"
 
حزب اللہ کی مخالفت کی وجوہات
حزب اللہ لبنان کی جانب سے اس منصوبے کی مخالفت کی وجوہات درج ذیل ہیں:
1)۔ اسرائیل سے درپیش خطرات کا دفاع: حزب اللہ لبنان نے 1982ء میں اپنی تشکیل سے لے کر آج تک مسلسل صیہونی غاصبانہ قبضے اور جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ 2000ء میں جنوبی لبنان کی آزادی اور 2006ء میں اسرائیل کے خلاف 33 روزہ جنگ میں اس تنظیم کا کردار ابھر کر سامنے آیا ہے۔ لہذا اب ایسے حالات میں جب اسرائیل بدستور لبنان کی قومی سالمیت اور خودمختاری کے خلاف اقدامات انجام دینے میں مصروف ہے حزب اللہ لبنان اپنے پاس موجود اسلحہ اور ہتھیاروں کو لبنان کے دفاع کا ضامن سمجھتی ہے اور انہیں کھونا نہیں چاہتی۔
2)۔ مزاحمت کے تشخص کا تحفظ: حزب اللہ محض ایک فوجی طاقت نہیں بلکہ عوامی حمایت کی حامل ایک سماجی سیاسی تحریک بھی ہے۔ اس گروہ کے پاس موجود اسلحہ مغربی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف مزاحمت کی علامت اور اس کے تشخص کا حصہ ہے۔ اس کا غیر مسلح ہونا اس کا تشخص کمزور ہو جانے کے مترادف ہے۔
 
3)۔ فوج اور حکومت پر عدم اعتماد: حزب اللہ لبنان اور اس کے حامی سمجھتے ہیں کہ لبنان آرمی مغربی طاقتوں کے سیاسی اثرورسوخ اور اقتصادی لحاظ سے مغرب پر انحصار کی بدولت بھرپور انداز میں لبنان کے قومی مفادات کا دفاع کرنے سے قاصر ہے۔ گذشتہ تجربات جیسے اسرائیلی فوجی جارحیت کے دوران موثر انداز میں ردعمل ظاہر نہ کرنا وغیرہ بھی اس عدم اعتماد کو مزید فروغ دیتے ہیں۔
4)۔ بیرونی دباو اور مڈل ایسٹ منصوبہ: حزب اللہ لبنان کی نظر میں تمام گروہوں کو غیر مسلح کر کے ان کا اسلحہ حکومتی تحویل میں لینے کا منصوبہ درحقیقت امریکہ اور اسرائیل کے اس گریٹر مڈل ایسٹ منصوبے کا حصہ ہے جو خالصتاً امریکی اور اسرائیلی مفادات کے تحفظ کی خاطر بنایا گیا ہے۔ یہ منصوبہ 1990ء میں پیش کیا گیا تھا اور اس میں ایران اور حزب اللہ سمیت اسلامی مزاحمتی قوتوں کو کمزور کرنا اور خطے پر اسرائیلی تسلط قائم کرنا شامل ہے۔
 
مزاحمت یا تسلیم؟
حزب اللہ لبنان نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے خود کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں پر فیصلہ کن موقف اختیار کرتے ہوئے اپنے اسلحے اور ہتھیاروں کو ریڈ لائن قرار دیا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ ایک طاقتور اور خودمختار قومی فوج نہ ہونے کے ناطے اسلامی مزاحمت بیرونی جارحیت کے مقابلے میں لبنان کے دفاع کا واحد ذریعہ ہے۔ دوسری طرف لبنان حکومت جو شدید اقتصادی اور سیاسی دباو کا شکار ہے، مغربی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کے ناجائز مطالبات پورے کر کے مالی امداد وصول کرنے کی خواہاں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ لبنان حکومت نے جو راستہ اختیار کیا ہے اس کا نتیجہ سوائے تناو میں اضافے اور اندرونی سطح پر مختلف گروہوں میں ٹکراو کے کچھ نہیں نکلے گا۔ اگر اسرائیل یہ محسوس کر لے کہ اسلامی مزاحمت ختم یا کمزور ہو چکی ہے تو وہ پوری طاقت سے دوبارہ حملہ کرے گا اور لبنان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے مقابلے میں لبنان امریکہ اور اسرائیل حزب اللہ لبنان کی کو غیر مسلح کرنے کو غیر مسلح کر اسلامی مزاحمت امریکہ اور اس میں لبنان کے لبنان حکومت حزب اللہ نے قرار دیا ہے کی جانب سے جارحیت کے کا نتیجہ کمزور ہو کرنے کی کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان