نئی دہلی میں نظام الدین درگاہ حادثہ، چھت گرنے سے چھ لوگوں کی موت
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
جوائنٹ سی پی سنجے جین نے بتایا کہ درگاہ شریف پتے شاہ کمپلیکس کی چھت گر گئی جسکے بعد 10 لوگوں کو بچا کر ایمس ٹراما سینٹر اور ایل این جے پی بھیجا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی کے نظام الدین علاقے میں ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ ہمایوں کے مقبرے کے پیچھے واقع فتح شاہ کی درگاہ کی چھت اور دیوار کا ایک حصہ اچانک گر گیا۔ حادثے کے وقت درگاہ کے اندر کئی لوگ موجود تھے جو ملبے تلے دب گئے۔ اس المناک حادثے میں چھ افراد جاں بحق ہوگئے۔ اس واقعہ کے سلسلے میں نامعلوم افراد کے خلاف تعزیرات ہند (بی این ایس) کی دفعہ 106، 125 اور 290 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ملبے تلے دبے 10 لوگوں کو بچا لیا گیا ہے۔ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ جوائنٹ سی پی سنجے جین نے بتایا کہ درگاہ شریف پتے شاہ کمپلیکس کی چھت گر گئی جس کے بعد 10 لوگوں کو بچا کر ایمس ٹراما سینٹر اور ایل این جے پی بھیجا گیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ تمام افراد کو ملبے سے نکالنے کے بعد ریسکیو آپریشن روک دیا گیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ یہ درگاہ نظام الدین علاقے میں ہمایوں کے مقبرے کے پیچھے واقع ہے۔ شام کے وقت اچانک چھت کی دیوار گر گئی جس کی وجہ سے ایک درجن کے قریب لوگ پھنس گئے اور وہاں چیخ و پکار افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔ پولیس انتظامیہ اور فائر بریگیڈ کو فوری طلب کیا گیا۔ کچھ ہی دیر میں فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائی شروع کر دی۔ فائر بریگیڈ کے ملازمین کی ٹیم نے فوری طور پر ملبہ ہٹایا اور لوگوں کو علاج کے لئے اسپتال پہنچایا۔ دنیا بھر میں مشہور صوفی پتے شاہ 1607ء میں پیدا ہوئے، وہ اس دور میں ماحول سے اس قدر محبت کرتے تھے کہ انہوں نے اپنی کئی ترکیبوں میں درختوں، پودوں اور پتوں کا ذکر کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فائر بریگیڈ لوگوں کو
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :